ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے والد کا کہنا ہے کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے،میری حکومت سے درخواست ہے مجھے انصاف دیا جائے،
اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری ملازم ہیں ، میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ، حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔
نان ایم ٹیگ اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول چارجز نافذ
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل سے شہر میں تشویش کی لہر تھی ، ٹک ٹاکر کو تھانہ سنبل کی حدود میں گھر میں قتل کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ 2 جون کو شام 5 بجے ثنا یوسف کو گھر کے اندر 2 فائر مارے گئے ، ملزم کی شناخت اور پھر اس کے پیچھے محرکات کو دیکھنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قاتل کی گرفتاری کیلئے 7 مختلف ٹیمیں بنائی گئیں ، ٹیموں نے 11 چھاپے مارے ، 130 کیمروں کی فوٹیجز لی گئیں ، فیصل آباد میں 3 چھاپے مارے گئے ، جس میں ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے کشیدگی بڑھے گی ،طارق فاطمی
علی ناصر رضوی نے مزید بتایا کہ ملزم فیصل آباد کا ہی رہائشی ہے، قاتل نے ثنا کا موبائل غائب کر دیا تھا، قتل کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی گئی ، قاتل سے اسلحہ اور ثنا یوسف کا موبائل برآمد کیا گیا ہے ، کیس چیلنج تھا، ٹیم نے محنت کی اور ملزم گرفتار ہوا۔
