امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کو مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وکیل

ڈاکٹر عافیہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل کے مطابق انہیں امریکی جیل میں مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، حال ہی میں ایک گارڈ نے سزا کے طور پر انکے ساتھ زیادتی بھی کی۔

یہ انکشاف ٹیکساس کی فورٹ ورتھ‎ جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹیفورڈ اسمتھ نے اُن سے ملاقات کے بعد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے جمعرات اور جمعہ کے روز عافیہ سے ملاقات کی، اس دوران درمیان میں شیشے کی دیوار حائل ہوتی ہے اور فون پر ساری گفتگو ہوتی ہے۔

وکیل کلائیو اسٹیفورڈ کا کہنا تھا کہ تمام ملاقاتوں میں فون درست طریقے سے کام نہیں کررہا تھا اور ہم فون پر ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر باتیں کررہے تھے۔ جیل حکام سے شکایت کرنے کے بعد دوسرا فون دیا گیا۔

وزیراعظم بنا تو عافیہ صدیقی کو آزادی دلاؤنگا جو یہ حکمران نہیں دِلا سکے، سراج الحق

انہوں نے بتایا کہ اتوار کو جب ڈاکٹر عافیہ سے ان کی بہن فوزیہ کی ملاقات ہوئی تو عافیہ زار و قطار رو رہی تھیں اور جیل حکام عافیہ کو وہاں سے لے گئے مگر ان کی بہن جو کہ سامنے دوسرے کمرہ میں تھیں وہ ان کو بھول گئے۔ اس طرح ڈاکٹر فوزیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے اس کمرے میں بند رہیں۔

عافیہ صدیقی کے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو اب بھی فورٹ ورتھ کی جیل میں مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ڈاکٹر عافیہ کو ابھی بھی دو ہفتوں قبل ایک گارڈ نے سزا کے طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ کی رہائی سے متعلق وہ کافی پرامید ہیں۔ وہ آج واشنگٹن جارہے ہیں جہاں ان کی ملاقاتیں کچھ ایسے افراد سے طے ہیں جو کہ وائٹ ہاؤس کو اس سلسلہ میں آگاہی دیں گے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں