وفاقی سیکرٹری کو بدتمیزی کرنے پر پہلے سزا، پھر رہائی مل گئی

Court

اسلام آباد: عدالت نے وفاقی سیکریٹری کو بدتمیزی کرنے پر 15 یوم قید اور جرمانے کی سزا سنائی تاہم غیر مشروط معافی مانگنے پر معطل کر دی۔

سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ عادل سرور سیال نے عدالت میں نامناسب رویہ اختیار کرنے اور دوران سماعت بدتمیزی کرنے پر وفاقی سیکرٹری محمد عمر ملک کو 15 یوم قید اور 2 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ وفاقی سیکرٹری کی جانب سے معافی مانگنے پر سزا کو معطل کر دیا گیا۔

عدالت نے سزا پانے والے وفاقی سیکرٹری کو معافی مانگنے پر ایک لاکھ روپے کے شورٹی بانڈ پر رہائی کا حکم دے دیا۔ جج نے مذکورہ افسر کو 15 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے یہ حکم مذکورہ سرکاری افسر کی جانب سے دائر درخواست اور غیر مشروط معافی پر جاری کیا۔

عدالت نے آئندہ محتاط رہنے کا سخت حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی لہذا آئندہ عدالت میں اپنا رویہ آئین اور قانون کے تابع کریں۔

عدالتی احکامات کے فوری بعد مذکورہ افسر کو اڈیالہ جیل منتقلی سے قبل بخشی خانے سے ہی رہا کر دیا گیا۔

وفاقی کابینہ کی ایڈوائزری کمیٹی کے سیکرٹری و آئی ٹی اور ٹیلی کام پر وزیر اعظم ٹاسک فورس کے رکن محمد عمر ملک نے اپنے وکیل اسد جنید کے ذریعے عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ382-A کے تحت درخواست دائر کر دی۔

دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ عدالت ایک سال سے کم دورانیے کی سزا پر سزا معطلی کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار ایک سرکاری عہدے پر فائز ہیں اور قانون پسند شہری ہیں جن کے خلاف پہلے ایسے کسی بھی واقعے کا کوئی وجود نہیں ہے لہذا عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے درخواست گزار کی رہائی کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کا مختلف اضلاع میں مزید 29 سمارٹ تھانے بنانے کا فیصلہ

محمد عمر ملک ہفتہ کو تھانہ ایئر پورٹ میں 16 دسمبر 2022 کوچیک ڈس آنر اور دھوکہ دہی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج مقدمہ کی سماعت کے لیے مدعی کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ جہاں پر دوران سماعت عدالت نے انہیں گریبان بند کرنے کو کہا تاہم مذکورہ سیکرٹری کے انکار پر معاملہ تلخ کلامی تک پہنچ گیا۔

عدالت برہم ہو گئی اور پی پی سی کی سیکشن 228کے تحت فوری کاروائی کرتے ہوئے عدالتی ریڈر راجہ کامران اور نائب قاصد عاصم ستی کا بیان ریکارڈ کیا۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مذکورہ فریق سرکار بنام محمد طاہر کے مقدمہ میں ذاتی حیثیت میں ایک گواہ کے ہمراہ پیش ہوا۔ جج نے ملزم کے وکیل بارے استفسار کرتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ یہ مقدمہ جرح کے لیے مقرر ہے لہذا دونوں فریق 9 بجے دوبارہ اپنے وکلا کے ساتھ عدالت حاضر ہوں۔

جس کے بعد عدالت میں ایک اور کیس کی سماعت جاری تھی کہ کیس کا مدعی دوبارہ کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور ریڈر کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کی حاضری لگا لی جائے۔ اس دوران اس کا لہجہ تلخ اور دھمکی آمیز تھا۔ اس نے کہا کہ وہ سرکاری ملازم ہے اور زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتا۔ جس پر عدالت نے اس سے نامناسب رویہ کی وجہ پوچھتے ہوئے اسے گریبان کے بٹن بند کرنے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا۔

جس پر عدالت نے وفاقی سیکرٹری کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی اوقات کار کے اندر جواب داخل کرانے کو کہا لیکن اس نے شوکاز وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

اس طرح اس نے عدالت کی تضحیک اور توہین کی جس پر عدالت نے انہیں 15دن قید اور2ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے اپنا حکمنامہ واپس لے لیا۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں