پاکستان کا آئی ایم ایف کو اخراجات کم کرنے کا پلان پیش

آئی ایم ایف

پاکستان کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف )کو ایک سال میں 300 ارب روپے تک اخراجات کی کمی کا پلان پیش کر دیا گیا۔

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو اخراجات کم کرنے کا پلان پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک سال میں غیر ضروری اخراجات میں تین سو ارب روپے تک کمی لائی جائے گی،صوبوں کے تعاون سے جاری منصوبوں میں فنڈنگ بھی نہیں کرے گی،صوبائی حکومتوں کے ماتحت یونیورسٹیوں کی فنڈنگ صوبے کریں گے۔

حکومت کا سولر پینلز صارفین کے لیے گراس میٹرنگ کی پالیسی متعارف کرانے پر غور

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان نئے بیل آٹ پیکیج کے لئے پالیسی سطح کے مذاکرات شروع ہوگئے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو اخراجات کم کرنے کا پلان پیش کر دیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت ایک سال میں غیر ضروری اخراجات میں تین سو ارب روپے تک کمی لائی جائے گی۔ آئندہ مالی سال سے پارلیمنٹیرنز کی ترقیاتی اسکیموں پر مکمل پابندی کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت صوبوں کے تعاون سے جاری منصوبوں میں فنڈنگ بھی نہیں کرے گی۔ وفاق صوبوں کے تعاون سے جاری منصوبوں میں فنڈنگ نہیں کرے گا، آئندہ مالی سال وفاقی حکومت کوئی نئی یونیورسٹی نہیں بنائے گی، صوبائی حکومتوں کے ماتحت یونیورسٹیوں کی فنڈنگ صوبے کریں گے۔

آئندہ مالی سال سے دفاع اور پولیس کے علاوہ تمام نئی بھرتیوں کیلئے شراکت دار پنشن اسکیم شروع کرنے کا پلان زیرغور ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کو پنشن سسٹم کا جائزہ لینے کی ہدایت کر رکھی ہے۔  گزشتہ ایک سال سے خالی گریڈ 1 سے 16 کی آسامیوں کو ختم کرنے کا پلان ہے.

گیلانی خاندان نے نئی تاریخ رقم کردی

دوسری جانب وفاقی بجٹ 25-2024 کیلئے اقتصادی سروے کے خدوخال تیار کیے جارہے ہیں، رواں مالی سال کے معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق معاشی ترقی کی شرح کا ہدف 3.5 فیصد ہے ، آئی ایم ایف نے رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 2 فیصد رہنے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کا 109 واں اجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے، جس میں معاشی اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے گااور رواں مالی سال کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ پیش کیاجائے گا۔

ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے لیڈز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو جوائن کرلیا

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اجلاس میں زرعی،صنعتی،خدمات کے شعبے کے اعدادوشمار منظوری کیلئے پیش کیے جائیں گےجبکہ گزشتہ مالی سال کے معاشی اعدادوشمار کی منظوری بھی دی جائے گی۔


متعلقہ خبریں