اپریل میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 49 کروڑ ڈالر سرپلس رہا


اپریل 2024 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 49 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپریل 2024 کے کرنٹ اکاؤنٹ اور بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار جاری کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 49 کروڑ ڈالر سرپلس رہا،اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے 10 مہینوں میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 کروڑ ڈالر ہے جبکہ مالی سال 2023 کے ابتدائی 10 مہینوں کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.92 ارب ڈالر تھا۔

زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ

اسٹیٹ بینک کے مطابق 10 مہینوں میں برآمدات 10 فیصد بڑھی ہیں جبکہ درآمدات 5 فیصد کم ہوئی ہیں۔10 مہینوں میں تجارت خدمات اور آمدن خسارہ 27 ارب سے کم ہوکر تقریبا 25 ارب ڈالر ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 60 کروڑ 47 لاکھ ڈالر کمی ہوئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل میں ملکی نجی شعبے میں 37 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔

نان فائلرز کے لیے 10 کروڑ کی پراپرٹی پر 35 فیصد ایڈوانس ٹیکس لگانے کی تجویز

ملکی نجی شعبے میں براہ راست 35.88 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں اپریل میں 1.63کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں سرکاری شعبے سے 97.99 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری نکالی گئی، 10مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاری93 فیصد اضافے سے 65.93 کروڑ ڈالر رہی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نجی شعبے میں 10 مہینوں میں 1 ارب 53 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، 10 مہینوں میں براہ راست سرمایہ کاری 8 فیصد بڑھ کر 1.45ارب ڈالر رہی۔اعداد و شمار کے مطابق 10 مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ میں 8.12 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔


متعلقہ خبریں