وزیر اعظم نہ بننے کا فیصلہ نواز شریف کا اپنا تھا، خرم دستگیر

Khurram Dastagir

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ وزیر اعظم نہ بننے کا فیصلہ نواز شریف کا اپنا تھا۔ جن کی جو نشستیں تھیں عوام نے ان کو واپس کر دیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے ہم نیوز کے پروگرام “ہم دیکھیں گے منصور علی خان کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں 2011 سے ایک فاشسٹ حملے کا سامنا ہے۔ انہوں نے 26 دن کا دھرنا دے کر چین کے صدر کا دورہ مؤخر کروایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پشاور سے اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے۔ ان کو کسی طرح سے منایا جا سکتا ہے تو یہ خام خیالی ہے۔ ان کا جواب سیاسی طور پر پارلیمان اور پارلیمان سے باہر دینا ہے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ کل ووٹ پاکستان کی تعمیر اور استحکام کے لیے ملا ہے اور ہم کچھ حد تک مزاحمت کو پسند کرتے ہیں جس سے ہمیں نکلنا ہے۔ ہم نے پاکستان کو ترقی، خدمت اور روزگاری کی سیاست پر ڈالنا ہے۔ اس بات کو ثابت کریں کہ سخت فیصلے لے کر ملک کو پٹڑی پر ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں قومی اسمبلی میں 224 ووٹ حکمران اتحاد نے حاصل کیے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف میں ورکنگ ریلیشن قائم رہتی ہے تو حکومت قائم رہے گی۔ توقع ہے یہ حکومت اور پارلیمان دونوں مدت پوری کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، آرمی چیف

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ فاشسٹ حکومت کے دور میں پارلیمان میں بل پاس کروانے کے لیے تیسرے فریق کی مدد لی جاتی تھی۔ جن کی جو نشستیں تھیں عوام نے ان کو واپس کر دی ہیں اور ہمیں پارٹی کی طرف سے کلیئر اور واضح ہدایات تھیں کہ نوازشریف ہی وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد پارٹی کے اعلیٰ فورمز کا کوئی اجلاس نہیں ہوا ہے۔ مختلف آوازیں میڈیا میں نظرآرہی ہیں جن کو پارٹی کے اندر بات کرنی چاہیئے تھی۔ اگر کسی کو اختلاف ہے تو پارٹی کے فورمز پر اظہار کرنا چاہیئے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ وزیر اعظم نہ بننے کا فیصلہ نواز شریف کا اپنا فیصلہ تھا۔ پارلیمان میں ہوں یا نہ ہوں ہم سب کو پارٹی اور حکومتوں کی مضبوطی کے لیے کوشش کرنی چاہیئے۔


متعلقہ خبریں