مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان اسپیکر اور ملک ظہیر اقبال چنڑ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے۔
سبکدوش اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی زیر صدارت اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا، مسلم لیگ ن کی نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ایوان میں آمد پر شور شرابا ہوا، سنی اتحاد کونسل اور ن لیگ کے ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔
اسپیکر کیلئے ن لیگ کے ملک محمد احمد خان کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر سے تھا۔ پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کیلئے 3 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے جہاں 322 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے۔
سبکدوش اسپیکر سبطین خان نے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا کہ کل 322 ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں 2 مسترد کئے گئے جب کہ 320ووٹ درست قرار پائے۔
سنی اتحاد کے امیدوار ملک احمد خان بھچر کو 96 ووٹ ملے جب کہ ن لیگ اور اتحاد کے امیدوار ملک احمد خان کو 224 ووٹ حاصل کر پائے۔
انہوں نے کہا کہ میں آپ سب کیلئے نیک خواہشات کااظہار کرتا ہوں،چاہتا ہوں یہ نظام چلتا رہا، جمہوریت چلتی رہی، تمام دوستوں کا شکریہ،آپ لوگوں نے اب ملک کر چلنا ہے۔
ہارنے والے جیتنے والے کو مبارکباد دیں۔آپ لوگوں کے کلمات میرے لئے اعزاز ہیں۔
بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب ہوا جس میں ن لیگ کے ملک ظہیر اقبال چنڑ سنی اتحاد کونسل کے معین الدین ریاض قریشی کے مدمقابل تھے۔
ڈپٹی سپیکر کےلئے کل 323ووٹ ڈالے گئے، ملک ظہیر اقبال چنڑ نے 220 ووٹ حاصل کئے جب کہ معین الدین ریاض قریشی 103ووٹ کر سکے۔
اجلاس کے اختتام پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اعلان کیا کہ وزیراعلی پنجاب کا انتخاب پیر 26 فروری 2024 کو ہوگا۔
