سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں 5ہزار روپے کے جعلی نوٹ پیش کیے گئے جنہیں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک بھی نہ پہچان سکے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی نے 5ہزار روپے کے جعلی نوٹ پیش کیے، چیئرمین کمیٹی نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی نوٹ مجھے مل سکتا ہے تو عام آدمی کا کیا بنے گا؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آپ بتا سکتے ہیں یہ اصل ہیں یا نقل؟ جعلی کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور بینکوں کے ذریعے جعلی نوٹ پھیل رہے ہیں، جعلی نوٹ بینکوں کے سسٹم میں موجود ہیں۔
اس متعلق ایک پالیسی بنائیں،سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ عام آدمی اس صورتحال میں کس کے پاس جائے؟ میرے پاس 1ہزار روپے کے بیسیوں جعلی نوٹ ہیں، کمیٹی ارکان نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر کے بریفنگ لی جائے۔
اس پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دینے کی یقین دہانی کروائی،اجلاس میں سولر پینل کی آڑ میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ پر بھی بحث کی گئی۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2 ممالک میں تجارت کے دوران بینکوں پر ذمہ داری ہوتی ہے، بینکوں کے پاس معاملے پر یکطرفہ ٹھوس طریقہ کار موجود نہیں، کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے آج آپ اپنے اقدامات اور پالیسیز سے آگاہ کریں گے۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ بتائیں تحقیقات میں کیا پیشرفت ہے اور مستقبل میں منی لانڈرنگ روکنے کیلیے کیا اقدامات کریں گے؟۔
اس پر ڈپٹی گورنر نے کہا کہ بینک مشکوک ٹرانزیکشنز کو آگے متعلقہ اداروں کو رپورٹ کرتے ہیں۔
اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر تحریری طور پر آگاہ کریں، اب پولیس بھی اینٹی منی ایکٹ کا استعمال کر رہی ہے۔
اراکین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر نے اپنی طرف سے کارروائی کی اور ہمیں آگاہ کیا، آپ نے اب تک کیا اقدامات کیے؟ اسٹیٹ بینک نے ملوث کمرشل بینکوں کے خلاف کیا کارروائی کی، حالیہ واقعے کے بعد تمام سولر پینل امپورٹرز متاثر ہو رہے ہیں۔
