خیبر پختو نخوا، عدم ادائیگیوں پر صحت کارڈ پر علاج بند


(ہم ڈیجیٹل ، عرفان خان) انشورنس کمپنی نے خیبر پختو نخواحکومت کے ذمے 10 ارب روپے بقایا جات کی ادائیگی کے پیش نظرصحت کارڈ پلس پر علاج بند کر دیا۔

انشورنس کمپنی نے رجسٹرڈ ہسپتالوں کو صحت کارڈ پلس پر علاج سے روکتے ہوئے مراسلہ جاری کردیا۔

انشورنس کمپنی کی بار بار یاددہانی کے باوجود نگران حکومت صحت کارڈ پلس کو فنڈ دینے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔

انشورنس کمپنی نے بقایا جات کے لئے پہلا خط17 اگست ،دوسرا21 اگست،تیسرا 27 اگست،چوتھا یکم ستمبر او آخری خط 2ستمبرکو لکھا مگر نگران حکومت محض کاغذی کارروائی کے زریعے حالات کو قابو کرنے میں مصروف ہے.اور انشورنس کمپنی کو 10 ارب روپے کی ادائیگی نہیں کر رہی۔

گزشتہ ماہ انشورنس کمپنی نے ایک خط بیجھا کہ ان کے 18 ارب 50 کروڑ روپے بقایا ہیں اگریہ رقم ادا ہوجائیں تو وہ صحت سہولیات کو جاری رکھیں گے۔

انشورنس کمپنی کا اس معاملے میں واضح موقف ہے کہ 13 ارب 50 کروڑ روپے گزشتہ مالی سال 2022-23 کے ہیں اور5 ارب رواں مالی سال کے ہیں،جولائی کے مہینے میں انشورنس کمپنی کے 21 ارب 50 کروڑ روپے بقایاجات تھے جس میں 3 ارب روپے بار بار یاد دہانی اور سروسز بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد جاری کئے گئے۔

انشورنس کمپنی ذرائع کے مطابق اج تک ہم نے وزیر اعلی اعظم خان کی درخواست پر سروسز کو جاری رکھا ہوا تھا ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ وزیر اعلی نے کہہ دیا ہے تو ان کو بقایا جات کی ادائیگی کر دی جائے گی مگر لگتا ہے وزیراعلی بے اختیار ہیں۔

دوسری طرف مشیرصحت دھمکیو ں کے ذریعے حالات کو قابو کرنا چاہتے ہیں۔ صحت سہولت کارڈ کی سروسسز بند کرنے کے لئے کل انشورنس کمپنی نے اسپتالوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس کی پینل پر رجسٹرڈ تمام ہسپتال صحت کارڈ پلس کے زریعے نئے مریضوں کو داخل نہ کرے تمام اسپتالوں میں موجود صحت سہولت ڈیسک بقایا جات کو وصول کرنے کے لئے کھلے رہیں گے۔

زرائع کے مطابق اس مرتبہ انشورنس کمپنی کے بہت زیادہ تحفظات ہیں. سٹیٹ لائف انشورنس بورڈ نے میٹنگ کے دوران اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور نگران حکومت کی عدم توجہی کو صحت کارڈ پلس کی مستقبل کے لئے سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔

دوسری جانب زرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ نگران مشیر صحت پیر کے دن صحت کارڈ پلس سے متعلق وزیر اعلیٰ سے بات کرینگے اور کوشش رہے گی کہ انشورنس کمپنی کو6 ارب روپے دئیے جائیں تاکہ صحت کارڈ پلس کے لئے دو ماہ کی آکسیجن مل جائے،مگر مسئلہ یہاں آر رہا ہے کہ دو ماہ بعد دوسری سہہ ماہی کے9 ارب روپے بقایا ہو جائیں گے جس کے بعد صحت کارڈ پلس کے بقایاجات کی مقدار ایک مرتبہ پھر سے21 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ جائیگی۔

گزشتہ مالی سال کے13 ارب 50 کروڑکے بقایاجات سابق نگران حکومت کے دور میں جمع ہوئے ہیں جو چلے آرہے ہیں۔

اس حوالے سے ڈائریکٹر سوشل ہیلتھ پروٹیکشن انیشیٹیو ڈاکٹر ریاض تنولی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ہم نیوز کو بتایا کہ نگران مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انور نے سٹیٹ لائف چئیرمین کو خط لکھا ہے کہ ہم آئندہ ہفتہ بقایا جات کی ادائیگی کر دینگے تب تک آپ صحت کارڈ پر علاج کو بحال کر دے۔

چئیرمین سٹیٹ لائف نے مشیر صحت کو یقین دہانی کرائی ہے مگر تحریری طور پر اپنے عملہ کو ہدایات جاری نہیں کئے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ کل تک اسپتالوں میں انشورنس کمپنی کے تعینات عملہ کو صحت کارڈ پر علاج بحال کرنے سے متعلق ہدایات مل جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی، چیف سیکرٹری اور مشیر صحت کوشش کر رہے ہیں کہ سٹیٹ لائف کو جلد از جلد بقایا جات کی ادائیگی کی جائے۔

اسٹیٹ لائف بہت تعاون کر رہی ہے مالی بحران سنگین ہے اور یہ صرف صوبائی حکومت کا مسئلہ نہیں ہے جب وفاق سے صوبائی حکومت کو رقم موصول ہو جائے تو امید کرتے ہیں کہ آئیندہ ہفتہ سٹیٹ لائف کو بقایاجات کی ادائیگی کر دیں  گے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp