ایم این اے کی مبینہ گندم سمگلنگ، تحقیق کرنیوالا انسپکٹر نوکری سے فارغ


اسلام اباد( زاہد گشکوری، ایڈیٹر انویسٹیگیشن ہم نیوز) بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے کی مبینہ افغانستان گندم سمگلنگ کو سامنے لانے والا فوڈ انسپکٹر آصف بلوچ کو بغیرمحکمہ کاروائی کے نوکری سے فارغ کردیا گیا ہے، محکمہ زراعت پنجاب نے فوڈ انسپکٹر آصف بلوچ کی ہم انویسٹگیشن ٹیم کو برسخاستگی کی تصدیق کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسپکٹر آصف بلوچ اور اسکی فیملی کے افراد کو پارلیمنٹ کی استحقاق کمیٹی میں ایم این اے نے گندم سمگلنگ کیس سامنے لانے پر کئی بار طلب کرایا۔

ہم نیوز کی تحقیق کیمطابق استحقاق کمیٹی نے ایم این اے کی مبینہ گندم سمگلنگ کیس پر بریفنگ لی، تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے معاملے پر کمیٹی کو اگاہ کیا، فوڈ انسپکٹر نے گندم سمگلنگ پرکمیٹی کو اگاہ کیا جس پر ایم این اے غصے میں آ گئے اور میٹنگ میں انسپکٹر پر برس پڑے۔

محکمہ زراعت کے پنجاب کے اعلئ حکام بشمول سیکرٹری زمان وٹو بھی میٹنگ میں موجود تھے، میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی اسی دن ایم این اے نے کمیٹی روم کے دروازے پر پارلیمنٹ میں ایم این اے مبینہ طور پر تھپڑ مارا جس پر دونوں کے اپس میں تلخ کلامی اوربات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جہاں فوڈ انسپکٹر کو ایم این اے دو ملازمین کی جانب سے مزید مار بھی پڑی تھی۔

ہم انویسٹیگیشن ٹیم کو ایم این اے واقعہ کی تصدیق کرتے ہو کہا کہ معاملہ غلط فہمی کی بنیاد پیش آیا جو اب حل ہوگیا ہے، آصف بلوچ اور سیکرٹری خوراک پنجاب میاں زمان ووٹو اور دو مزید آئینی شاہد نے بھی ہم نیوز کو تشدد کے واقعہ کی تصدیق کی۔

واقعے کے بعد فوڈ انسپکٹر نے تھانہ سیکریٹریٹ اسلام آباد میں مقدمہ کی درخواست دی کہ معزز ایم این اے نے انکو پارلیمنٹ میں تشدد کا نشانہ بنایا ہے لہٰزا قانونی کاروائی کی جائے اور انکو اور انکے خاندان کے افراد کو تحفظ دیا جائے۔

تشدد کے واقعے کے فوڈ انسپکٹر نے تمام بہاولپور سے گندم سمگلنگ کے ثبوت متعلقہ محکمہ کو جمع کرادیے اور دباو کے باوجود اپنی بہاولپور ڈویژن میں گندم سمگلنگ پر کی جانے والی محکمانہ تحقیق سے پیچھے نہیں ہٹھے۔

 

 

فوڈ انسپکٹر کا دعوی ہے کہ مقامی ایم این اے افغانستان گندم سمگلنگ میں ملوث ہے اور انکی گندم سے بھری گاڑیاں پکڑنے پر انکو اور انکے خاندان کے افراد کو اس ظلم کا نشانہ بنایا گیا جبکہ وہ اسکے شواہد تمام متعلقہ محکموں کو پیش کرچکے ہیں۔

ہم نیوز کی تحقیق کیمطابق فوڈ انسپکٹر کیخلاف ایم این اے مبینہ دباو پر پنجاب اینٹی کرپشن اور دوسری محکمانہ کاروائی کا آغاز ہوگیا ہے، ہم نیوز کی تحقیق کیمطابق ان تمام کاروائیوں کے حتمی نتیجہ سے پہلے ہی فوڈ انسپکٹر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
جبکہ پارلیمنٹ میں تشدد کے واقعہ کی تحقیق کیلیے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی سربراہی نے تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔

ایم این اے نے فوڈ انسپکٹر کو نوکری سے فارغ کروانے کے معاملے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور تاثر کو سختی سے رد کیا کہ وہ انسپکٹر کیخلاف کوئی کاروائی کروا رہے ہیں۔

ایم این اے نے گندم سمگلنگ کی بھی سختی سے تردید کی ہے۔

 


متعلقہ خبریں