چینی وزیر خارجہ کا پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے کا مشورہ


چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے کا مشورہ دے دیا۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ استحکام ترقی کی بنیاد ہے، امید ہے پاکستانی  سیاسی قوتیں استحکام کی کوشش کریں گی، تاکہ پاکستان اور چین مل کر اقتصادی محاذ پر ترقی کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اقتصادی دباؤ کم کرنے کیلئے مدد کریں گے، چینی اقتصادی تعاون پاکستانی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ پاکستان کو قرض کے جال میں پھنسایا، الزام لگانے والوں سے پوچھا جائے انہوں نے پاکستان کیلئے کیا کیا؟

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز صدر علوی سے ملاقات ہوئی جنہیں چینی صدر کی جانب سے تہنیت کا پیغام پہنچایا، ون چائنہ پر پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، چین پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور امور پر حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ میں پاک چین تعلقات مزید مستحکم ہوِئے، گزشتہ نومبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے چین کا کامیاب دورہ کیا، میرے دورے کا ایک اہم مقصد پاکستان، چین ، افغان وزرائے خارجہ کے مذاکرات میں شرکت ہے، آج سہہ فریقی مذاکرات میں تینوں ممالک شرکت کریں گے۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ طویل سرحد ہے، ہمسائے کہیں اور نہیں جاسکتے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان بات چیت و مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

چن گانگ نے زور دیا کہ امید ہے کہ طالبان ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے تحفظات کو سنجیدہ لیں گے اور اقدامات کریں گے، طالبان شمولیتی حکومت بنائیں گے اور سب کو حقوق دیں گے، چین اور پاکستان افغانستان کی اقتصادی حمایت کے لیے تیار ہیں، چین افغانستان اور پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی و انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے کو تیار ہے تاکہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے.

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان عوام کے مصائب بہت سالوں سے جاری ہیں، عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ افغان عوام کے مسائل کے حل کے لیے کوشیش کرے، ہمارا مقصد افغانستان پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، چین سہہ فریقی مذاکرات کرانے پر پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

 


متعلقہ خبریں