پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں صدر کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا،جسٹس منیب اختر

سپریم کورٹ خط (supreme court letter)

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں صدر کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا۔ 1976میں آئین خاموش تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے،اسمبلی نے ترمیم کرکے صدر اور گورنر کو تاریخ دینے کا اختیار دیا، پنجاب کی حد تک صدر نے شاید تاریخ درست دی ہو۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس میں جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق 48 گھنٹے گزرنے کے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ نوٹیفکیشن سے پہلے کسی نے تو حکم جاری کیا ہی ہوگا؟

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے،کیا گورنر اپنی صوابدید پر اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے؟

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ کوئی سمری منظور کرے یا واپس بھیج دے،اسمبلی تحلیل پر گورنر کا کوئی صوابدیدی اختیار نہیں، گورنر اگر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ بولے کہ گورنر کی صوابدید یہ نہیں کہ اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ گورنر سمری واپس بھیجے تو بھی48 گھنٹے کا وقت جاری رہے گا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ گورنر سمری واپس بھیجے تو 48 گھنٹے کا وقت کہاں سے شروع ہو گا؟

وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ میری نظر میں گورنر اسمبلی تحلیل کی سمری واپس نہیں بھیج سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران حکومت کیلئے گورنر کو کسی سمری کی ضرورت نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 112 میں 2 صورتیں ہیں ،گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دیتا ہے یا نہیں دیتا،آرٹیکل 112 کی ذیلی شق ایک کے مطابق گورنر کی صوابدید ہے کہ وہ تحلیل کرے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب بتائیں کہ کیا گورنر کی صوابدید ہے یا ان کا کردار میکینکل ہے؟علی ظفر صاحب آپ سب کے ہی سوالات پر کہہ رہے ہیں “جی بالکل”کیا آپ سب کے سوالات سے اتفاق کرتے ہیں؟کیا اگر کرفیو لگے یا سیلاب وغیرہ آجائے تو انتخابات کی تاریخ بڑھ سکتی ہے؟

وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن مخصوص حلقوں میں انتخابات کا وقت بڑھا سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ گورنر دے تو بھی قدرتی آفات آسکتی ہیں، ملک میں جنگ ہو یا کرفیو لگ جائے تو انتخابات کیسے ہوں گے؟

وکیل علی ظفر نے کہا کہ قانون میں سیلاب اور قدرتی آفات کا ذکر ہے جنگ کا نہیں، جنگ کا قانون میں کہیں ذکر نہیں اس کیلئے ایمرجنسی ہی لگائی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ کو کہا ہے کہ عملہ دیں انہوں نے نہیں دیا،الیکشن کمیشن نے بجٹ بھی مانگا اس کا مطلب یہی کہ انتخابات کی تیاری ہو رہی تھی۔

وکیل علی ظفر بولے اگر گورنر غیر حقیقی تاریخ دے تو الیکشن کمیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو کاغذات نامزدگی سمیت تمام مراحل کیلئے 52 دن درکار ہیں،  اسی بنیاد پر ہی گورنر کو تاریخیں تجویز کی تھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کے دن ہی تاریخ دینا ہوتی ہے؟کیا الیکشن کمیشن گورنر کی دی گئی تاریخ سے آگے پیچھے انتخابات کرا سکتا ہے؟

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انتخابات کو ہر صورت وقت پر ہونا ہوتا ہے،ترکیے میں اتنا بڑا زلزلہ آیا اور ان کے صدر اردگان نے انتخابات کا پھر بھی اعلان کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تمام فریقین کے وکلا مختصر دلائل دیں۔

اس موقع پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کل ساڑھے9بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

معاون وکیل نے بتایا کہ صدر عارف علوی کی جانب سلمان اکرم راجہ پیش ہوں گے۔

الیکشن از خود نوٹس کیس:سپریم کورٹ میں نیا بنچ تشکیل

سپریم کورٹ نے از خود نوٹس  کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی نئے بنچ میں شامل ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل نہیں۔اختلافی نوٹ لکھنے والے 4 ججز میں سے 2 ججز بھی بنچ میں شامل نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی بنچ میں شامل نہیں ہیں۔

 آج کی سماعت

چیف جسٹس عمر عطابندیال ننے سماعت شروع ہونے پر بتایا کہ بینچ کے 4 ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے۔عدالت کاباقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا۔آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے۔کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے۔جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا۔

کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس

انہوں نے کہاہے کہ مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو۔علی ظفر آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے۔

جسٹس  محمد علی مظہر نے استفسار کیا ہے کہ گورنر کون مقرر کرتا ہے؟  وکیل نے جواب دیا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا  کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے۔

وکیل علی ظفر کا کہنا تھا  کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو ارسال کی۔گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگےناموں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلی ٰکا انتخاب کیا۔الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کا کہا۔گورنر نے جواب دیا انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو سماعت ہوئی کب تک ملتوی ہوئی؟ وکیل نے بتایا کہ لاہورہائیکورٹ میں آ ج سماعت مقرر تھی وہ ملتوی کردی گئی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال  نے ریمارکس دیے کہ ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ وکیل علی ظفر نے کہا۔الیکشن کمیشن آئین پر عمل نہیں کررہا ،گورنر کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے۔

وکیل شیخ رشید کا عدالت میں کہنا تھا کہ معاملے میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ توہین عدالت کیس میں کیا احکامات ہائیکورٹس نے جاری کیے ہیں؟ عدالت کو بتایا گیا کہ ان درخواستوں پر مارچ میں سماعت ہوگی۔

سپریم کو رٹ  نے آج ہی گورنر خیبرپختونخوا کے سیکریٹری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیدھا سا کیس ہے 18 جنوری سے گورنر تاریخ دینے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دہے کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کیلئے مشاورت کرنا ہے۔انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا کام نہیں۔صاف شفاف انتخابات منعقد کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

سپریم کورٹ  نے آج اٹارنی جنرل، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، پی ڈی ایم سمیت سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو طلب کر رکھا  ہے۔

حکمران اتحاد نو رکنی بنچ میں سے جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو الگ کرکے فل کورٹ بنانے کی اپیل دائر کی گئی  تھی۔

سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ازخود نوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا، جس کے بعد از خود نوٹس پر سماعت کیلئے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا۔


متعلقہ خبریں