جو سیکٹر مددگار ثابت ہو سکتا ہے اس پر حملہ کیا گیا، اسد عمر


اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ معیشت کا جو سیکٹر مددگار ثابت ہو سکتا ہے اس پر حملہ کیا گیا۔ یہ روز صبح اٹھ کر سوچتے ہیں کہ کس طبقے کے ساتھ ظلم کریں۔

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں پر ٹیکس لگانے سے بےروزگاری میں اضافہ ہو گا اور بجٹ پر بحث کے لیے کچھ دن درکار ہوتے ہیں لیکن حکومت نے بجٹ بھی پیش کیا اور اعلانات بھی کیے۔

انہوں نے کہا کہ جس دن عدم اعتماد کی تحریک آئی تب سے اب تک زر مبادلہ کے ذخائر آدھے ہو گئے ہیں اور پونے 4 سال کے جو زرمبادلہ کے ذخائر تھے وہ 3 ماہ میں اڑ گئے ہیں۔ ملک میں دیوالیہ پن شہباز شریف کی وجہ سے ہوا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ کریں کیا اور یہ لوگ روز صبح اٹھ کے سوچتے ہیں کہ پاکستانی عوام کے کس طبقے کے ساتھ ظلم کریں۔ معیشت کا وہ سیکٹر جو مدد گار ثابت ہوسکتا ہے اس پر انہوں نے حملہ کیا اور شہباز شریف کے خطاب کے بعد ہی اسٹاک مارکیٹ گر چکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ قوم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں اور عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ شہباز شریف سے کہتا ہوں عوام پر اور کتنا بوجھ ڈالیں گے ؟ یہ لوگ اپنے آپ کو ریلیف دینے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں اور شہباز شریف کہتے ہیں کہ یہ سب ہم اپنے ضمیر کی آواز پر کر رہے ہیں۔ شہباز شریف بتائیں کون سے ضمیر کی یہ آواز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا گوادر میں رہائشی کالونی کیلئے 200 ایکڑ اراضی دینے کا اعلان

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو قربان کیا ہے۔ شہباز شریف بتائیں مقصود چپڑاسی تو قربان ہو گئے اب کون سی قربانی کی بات کر رہے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ روکھی سوکھی کھانی پڑے گی تو شہباز شریف بتائیں یہاں تک تو آپ نے پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان، مقصود چپڑاسی قربان ہو گئے اب پتہ نہیں اور کتنے لوگ قربان ہوں گے۔ شہباز شریف سے پوچھتا ہوں ایون فیلڈ اور حدیبیہ سے کتنے پیسے آپ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟

اسد عمر نے کہا کہ قابل ٹیم کے چرچے تھے لیکن انہوں نے کہا معیشت کو بچانے کے لیے چائے ایک کپ کم پیئیں۔ کیا کپڑے بیچ کر مہنگائی ختم کرنے والا منصوبہ ختم ہو گیا ؟ ان کو صرف یہ پتہ ہے کہ یہ کیوں آئے ؟ خرم دستگیر نے سب بتا دیا ہے اور اب 2 ماہ میں نیب کا قانون بدل دیا، ان کو عوام کی فکر نہیں بلکہ اپنی فکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف خدا کا واسطہ حبیب جالب کو معاف کر دیں، شہباز شریف کا حبیب جالب سے اتنا تعلق ہے جتنا جوبائیڈن کا گوالمنڈی سے ہے۔ اگلے چند مہینوں میں مہنگائی میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا اور ہر چند ماہ بعد بیروزگاری میں اضافہ کیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں