برطانوی رکن پارلیمنٹ شیرخوار بچے کے ہمراہ دارالعوام پہنچ گئیں


برطانوی رکن پارلیمنٹ اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ پارلیمنٹ پہنچ گئیں، جہاں ان کا کہنا تھا کہ نئی ماؤں کو پارلیمنٹ میں واپس آنے پر سپورٹ کرنے کی بجائے ڈانٹا جاتا ہے۔

سٹیلا کریسی جو والتھمسٹو کی نمائندگی کرتی ہیں نے اس سال کے شروع میں اپنے دوسرے بچے کو جنم دیا جبکہ وہ ہمیشہ سے ملک اور ممبران پارلیمنٹ کی خواتین کے لیے زچگی کے دوران سپورٹ کرنے کی مہم چلاتی رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچے کے ہمراہ آج اس لیے آئی ہیں تاکہ پارلیمان میں جدت پسندی کی سوچ کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

 

انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قائد ایوان ممبران پارلیمنٹ کے ایوان میں واپسی دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، لیکن آزاد پارلیمانی سٹینڈرڈ اتھارٹی نےانہیں زچگی کے مناسب فنڈ کو اس بنیاد پر دینے سے انکار کر دیا کہ لوگوں کو چیمبر میں بولنے کے لیے آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس ملک میں ان چند کام کی جگہوں میں سے ایک بنا دیا گیا ہے جہاں نئی ​​ماں آئے تو اس سے تعاون کیے جانے کی بجائے اسے ڈانٹ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی پارلیمنٹ نے 12دسمبر کو عام انتخابات کا اعلان کر دیا

انہوں نے زور دیا کہ زچگی کے دوران بچے کی ماں کی چھٹی او تحفظ کے قانون کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

اس سال کے شروع میں اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے نئی قانون سازی کی حمایت کی گئی تھی جس میں وزرا کو 6 ماہ کی زچگی کی چھٹی کا حق دیا گیا تھا، لیکن اس میں بیک بینچرز شامل نہیں تھے۔

اس سے پہلے سٹیلا کریسی اپنی بیٹی کو بھی پارلیمنٹ لا چکی ہیں۔

2018 میں پہلی مرتبہ لبرل ڈیموکریٹ کی ڈپٹی رہنما جو سونسن نے اپنے بیٹے کے ساتھ شرکت کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ جب حمل سے متعلق امتیازی رویے کے سبب ہر برس 54 ہزار خواتین اپنے نوکریاں کھو دیتی ہیں، تو بالخصوص یہ اہم ہے کہ ہم اس طرح کی چیزوں کو درست کریں کیونکہ یہ نہ صرف پارلیمان بلکہ ملک بھر میں کرنے کی ضرورت ہے جس میں کام کے جگہوں پر جدت پسندی لائی جائے تاکہ والدین اپنی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کر سکیں۔


متعلقہ خبریں