پورے ملک میں پاور بریک ڈاؤن کیسے ہوا؟



اسلام آباد: پاور بریک ڈاؤن کے سبب پورا ملک رات بھر تاریکی میں ڈوبا رہا اور بیشترعلاقے اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق رات11بج کر41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں خرابی پیدا ہوئی جس کے سبب ملک کی ہائی ٹرانسمیشن میں ٹرپنگ ہوئی اور ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سسٹم کی فریکونسی پچاس سے صفر پر آئی اور پاورپلانٹس بند ہوگئے۔

پاور پلانٹ کے سیفٹی سسٹمز نے خود کو شٹ ڈاوَن کرنا شروع کردیا اور فالٹ کے باعث 10ہزار302میگاواٹ سسٹم سے آوَٹ ہوگئے۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) کا پانچ سوکے وی کا سسٹم ٹرپ کرنے سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:پاور بریک ڈاؤن: بیشترعلاقے تاحال بجلی سے محروم

ترجمان کے مطابق تربیلا اور منگلا سے بجلی کی سپلائی معطل ہوئی اور سسٹم کوبحال کیا جا رہا ہے۔ بجلی کا ترسیلی نظام بحال کرنے کی بھرپور کوشش جاری ہے اور مرحلہ وار بجلی بحال ہو جائے گی۔

تربیلا پاور ہاؤس کے تین یونٹس چلا دیئے گئے ہیں۔ وارسک پاور ہاؤس کے یونٹس بھی بحال کردئیے گئے ہیں اور ترسیلی نظام میں بجلی کی فریکونسی ملائی جا رہی ہے۔

وزیرتوانائی عمرایوب اور وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ خرابی پیدا ہونے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے اور دھند کے باعث مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فالٹ ملک بھرکےپلانٹس میں نہیں،ایک مخصوص علاقےمیں آیا۔ گدو پاورپلانٹ میں ابھی تک فالٹ نظر نہیں آیا۔ دھند کم ہونے پر تحقیقات کے بعد فالٹ کا پتہ چلے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاوربریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

عمرایوب کے مطابق سسٹم کو واپس آن لائن آنے میں مزید کچھ گھنٹے لگیں گے۔ کے الیکٹرک کو 400میگاواٹ کی سپلائی شروع ہوچکی ہے۔

وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کےدور میں 18 سے ساڑھے 18 ہزار واٹ ترسیل کا نظام تھا۔ ن لیگ کے دور میں ایسے 8بریک ڈاوَن ہوئے۔ ہم بجلی کے ترسیلی نظام کو 24،23ہزار میگا واٹ تک لے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں