جنوبی کوریا: پیدائش سے زیادہ اموات نے خطرے کی گھنٹی بجادی

سال2020 میں 2 لاکھ 75ہزار800 بچے پیدا ہوئے جو سال2019 کی نسبت10 فیصد کم ہیں

فائل فوٹو


جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلی بار سال2020 کے دوران شرح اموات شرح پیدائش سے بڑھ گئی جس نے حکام کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

سال2020 میں 2 لاکھ 75ہزار800 بچے پیدا ہوئے جو سال2019 کی نسبت10 فیصد کم ہیں۔ جنوبی کوریا میں 2020 کے دوران تقریباََ 3 لاکھ7 ہزار764 اموات ہوئی ہیں۔

پیدائش اور اموات کے اس فرق نے وزارت داخلہ کو اپنی پالیسیوں میں “بنیادی تبدیلیاں” کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شرح پیدائش میں اس قدر کمی نے انتظامیہ کو مزید پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

نوجوانوں کی کم تعداد مزدوروں کی قلت کا بھی باعث بنتی ہے جس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ صحت عامہ کے نظام اور پنشنوں کی مانگ میں اضافے کے ساتھ عوامی اخراجات پر دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔

گزشتہ ماہ حکومت نے آبادی بڑھانے کیلئے کچھ اعلانات کیے تھے میں مالی معاونت بھی شامل تھا۔ اس اسکیم کے تحت2022 میں پیدا ہونے والے بچوں کو ماہانہ2 لاکھ وان ملیں گے جو ا سکی پرورش پر خرچ ہوں گے۔

سال2025 کے بعد ہر بچے کی پیدائش پر5 لاکھ وان دیئے جائیں گے۔ سال2018 کے اعدادوشمار کے مطابق جنوبی کوریا کی آبادی5 کروڑ64 لاکھ تھی۔

 


متعلقہ خبریں