توانائی کے چیلنجز: وزیراعظم کا جامع حکمت عملی بنانے پر زور

توانائی کے چیلنجز: وزیراعظم کا جامع حکمت عملی بنانے پر زور

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان درپیش توانائی کے چیلنجز کو حل کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ملک میں تیل اور گیس کی دریافت اور پیداوار میں اضافہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عوام پر قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے تمام سیکٹرز میں ٹیکنالوجی کو بروئے کار لیا جائے۔ پرانے طریقہ کار کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والے ضیاع کو روکا جائے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں تیل اور گیس کی دریافت اور پیداوار میں اضافہ کا جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن مینجمنٹ سسٹم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی

اجلاس کو بتایا گیا کہ سسٹم کے نفاذ سے تیل اور گیس کی مقامی پیداواری استعداد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ نظام حکومت کے زیر نگرانی کمپنیوں کے پاس موجود تیل اور گیس سے متعلقہ معلومات پر مبنی ہوگا۔ ملکی تیل اور گیس کے وسائل کو موثر اور کم لاگت میں عوام کیلئے دستیابی میں بھی مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سسٹم کے نفاذ سے تیل اور گیس کے ذخائر سے کم لاگت میں استفادہ حاصل کیا جاسکے گا۔ سسٹم سے عوام کو سستے داموں پر تیل اور گیس کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ 29 ستمبر کو سندھ حکومت نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو صوبے میں جلد از جلد گیس لائن بچھانے کی اجازت دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ کو اس کے حصے کی گیس نہیں دی جا رہی، مرتضیٰ وہاب

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر توانائی عمرایوب نے کہا تھا کہ  سندھ حکومت نے گیس لائن بچھانے کی اجازت نہ دی تو آنے والے دنوں میں صورتحال سنگین ہو جائیگی۔

اسلام آباد میں مشیر پٹرولیم ندیم بابر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے عمر ایوب نے کہا تھا کہ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے پائپ لائن بچھانے کے لیے حکومت سندھ کی اجازت درکار ہے۔

عمر ایوب نے کہا تھا کہ  سندھ خصوصاً کراچی میں گیس کی قلت کا سامنا ہے۔ سردیوں میں گیس کی قلت کے حوالے سے پیشگی اقدامات کررہے ہیں۔ ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔  گھریلو اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیں گیس درآمد کرنا پڑے گی۔

وزیر توانائی عمرایوب نے کہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتوں نے تیل وگیس کے ذخائر کی دریافت کیلئے اقدامات نہیں کیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سندھ میں گیس کی قلت کا سامناہے۔ گیس پائپ لائن کیلئے 17 کلو میٹر کے راستے کی سندھ حکومت نے ابھی تک اجازت نہیں دی ہے۔ سندھ میں 17 کلومیٹر پرگیس پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

عمر ایوب نے کہا تھا کہ گیس شعبے میں گردشی قرضے 250 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی قلت کے حوالے سے پیشگی اقدامات کررہے ہیں۔تیل وگیس کےذخائر 7.5فیصدکےحساب سےکم ہوتے رہے۔


متعلقہ خبریں