مراد علی شاہ نیب سکھر میں پیش، بیان رکارڈ کرایا


سکھر: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی احتساب بیورو (نیب) سکھر میں پیش ہوئے اور اپنا بیان رکارڈ کرایا۔

نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد  لی شاہ نے کہا کہ نیب نے 2017 میں دی گئی گندم پر سوالات بھیجے تھے۔ آج نیب کوسوالوں کےجوابات دینے آیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نیب نے مختلف سوالات کیے جس کے جوابات دیے۔ نیب نے پوچھا کہ سندھ حکومت کے معاملات کس طرح چلتے ہیں۔ نیب کو واضح کیا کہ آئین کے تحت سندھ حکومت کے معاملات چلتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مرادعلی شاہ نے کہا کہ کراچی میں بارشیں پہلے بھی ہوئی ہیں۔ ماضی میں ہونےوالی بارشوں کےدوران کئی اموات ہوئیں۔ کراچی میں اس بار شارع فیصل پر 4 گھنٹے بھی پانی نہیں رک سکا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 4 جون کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے تھے اور تفتیش کے دوران نیب کو بتایا تھا کہ سولر لائٹس منصوبے کی منظوری آئین اور قانون کے مطابق دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف سے نیب کیا پوچھ رہا ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

مرادعلی شاہ سے نیب راولپنڈی  نے جعلی اکاؤنٹس کیس اورسندھ روشن پروگرام کیس کے متعلق تفتیش کی تھی۔

پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا تھا کہ نیب نے سولرلائٹس منصوبے کے حوالے سے وضاحت کے لیےبلایا تھا۔ اسٹریٹ لائٹس لگانے کےمنصوبے کی انکوائری تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ  کا کہنا تھا کہ سولرلائٹس منصوبے کےوقت میں وزیرخزانہ تھا۔ نیب نے پوچھا کہ بجٹ میں جو اسکیم شامل نہیں تھی منظوری کیوں دی گئی؟

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں شامل نہ ہونے والی اسکیم کی بھی آئین کے مطابق اجازت دی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مراد علی شاہ نے نیب الزامات سے لا تعلقی ظاہر کی تھی۔  وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کیس میں کرپشن کے الزامات عائد کرنا درست نہیں۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔


متعلقہ خبریں