پاور سیکٹر کے آڈٹ کیلئے پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ


اسلام آباد: سول سوسائٹی کی تنظیم “الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی”  نے پاور سیکٹر سےمُتعلق حال ھی میں جاری ھونے والی آڈٹ رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے مزید تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیا ہے۔

الائنس فار کلائیمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی (Alliance for Climate Justice and Clean Energy) کے زیر اہتمام  آن لائن پریس کانفرنس میں مقررین کا کہنا تھا کہ مُجوزہ پارلیمانی کمیشن اِس آڈٹ رپورٹ میں درج حقائق کی چھان بین کےساتھ ساتھ کوورنا وائرس کے تناظر میں بجلی کے شعبہ کو درپیش مالی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل کا وسیع النظر جائزہ لے۔

انہوں نے آڈٹ رپورٹ کو ‘درست سمت میں پہلا قدم’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر کی آڈٹ کا یہ عمل جاری رھنا چاہیے، تاہل اِس عمل کو وسیع البنیاد، جمہوری، شراکتی اور موسمیاتی تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ھے۔

الائنس فار کلائیمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی کے نُمائندے محمد علی شاہ، ایڈووکیٹ سید غضنفر عباس اور اظھر لاشاری نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے بجلی کے شعبہ میں ہونے والی سرمایہ کاری اور ترقی کا رحجان زیادہ تر کوئلہ اور دیگر فاسل فیولز پر چلنے والے ایسے منصوُبوں پر رہا ھے جن سے بجلی کی درآمدی لاگت اور گردشی قرضوں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تباہ کاری میں خطرناک حد تک اضافہ ھورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل انرجی مِکس میں کوئلہ سے پیدا ھونے والی بجلی کا حصہ جو چند سال قبل محض صفر تھا آج 32 فیصد تک پہنچ چُکا ھے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی سے بُری طرح متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان ساتویں نمبر پر آگیا ھے۔ بجلی کے شعبہ میں اگر سرمایہ کاری اور ترقی کے موجودہ رحجان کو بدل کر ماحول دوست قابل تجدید توانائی کو ترجیح نہیں دی جاتی تو مستقبل میں اس سے مالی عدم استحکام، معاشی غیر فعالیت، گردشی قرضے، بیماریاں، فضائی آلوُدگی اور آبی بحران جیسے مسائل مزید پیچیدہ شکل اختیار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں پہلے ہی کوئلہ کی کان کنی اور کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کی وجہ سے مقامی باشندوں کو نقل مکانی اور ذرائع معاش کے خاتمہ جیسے سنجیدہ مسائل کا سامنا ھے۔ کوئلے کے اِن منصوُبوں کی وجہ سے تھر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ تھر میں اگلے تیس سالوں میں کوئلہ کی کان کُنی کے لیے 4,000 بلین گیلن پانی اور کوئلہ سے 10 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے  8,500بلین گیلن پانی استعمال ہوگا۔ تھر اور صوبہ سندھ کو درپیش حالیہ آبی بحران کوئلہ کے اِن منصوُبوں کی وجہ سے مزید گھنبیر ہو گا۔ لہذا اِن حالات میں کوئلہ اور دیگر فاسل فیول سے چلنے  والے بجلی کے زیرتکمیل منصوُبوں، بالخصوص تھر کول بلاک ون کے منصوُبوں،  پر جاری کام کو فی الفور بند کرتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیشن قائم کیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس وقت بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے30 فیصد زائد ہے۔ کوئلہ کے جاری منصوبوں سے بجلی کی زائد پیداواری صلاحیت مستقبل میں کئی گُنا بڑے گی۔ اِس کے نتیجے میں بے کار اثاثوں کا حجم بڑھے گا جس سے بجلی کے شعبہ کو درپیش مالی و مُعاشی مسائل بھی بڑھیں گے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی نمو میں کمی واقع ھو رھی ھے۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مُطابق موجودہ مُعاشی حالات کے پیش نظر ملک میں بجلی کی طلب میں کوئی اضافہ کا کوئی امکان نہیں۔ اِن حالات میں مجوزہ پارلیمانی کمیشن کو توانائی کی حقیقی طلب کو سامنے رکھتے ہوئے بجلی کے جاری روائتی منصوبوں کو ازسرِنو دیکھنے  کے علاوہ پالیسی ترجیحات کی سمت صاف، ماحول دوست قابل تجدید توانئی کی جانب کرنے ضرورت ھے۔

 


متعلقہ خبریں