کسی جرگے کو بهی فوجداری اور سول عدالت کے برابر کا مرتبہ حاصل نہیں،سپریم کورٹ

عوامی اور سرکاری زمینوں پر پیٹرول پمپس کیسے تعمیر ہو گئے ؟ چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کہا ہےکہ جرگے اور پنچائتیں محدود حد تک ثالثی، مذاکرات اور مصالحت کر سکتی ہیں مگرکسی جرگے کو بهی فوجداری اور سول عدالت کے برابر کا مرتبہ حاصل نہیں ہے۔عدالت نے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان حکومت سے غیر قانونی جرگوں سے متعلق  پیشرفت رپورٹ 6 ہفتوں میں طلب کر لی ہے۔ 

غیر قانونی جرگوں سے متعلق کیس کی سماعت قائم مقام چیف جسٹس ،جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب میں غیر قانونی جرگے کا کوئی کیس نہیں ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ کبهی کبار پنجاب سے بهی جرگے کے کیس آ جاتے ہیں، عدالت کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

عدالت نے اس ضمن میں حکم دیا کہ حکومت پاکستان کے جو عالمی معاہدے ہیں ان کے مطابق جرگے غیر قانونی ہیں۔ پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کیے جاتے ہیں وہ آئین کی آرٹیکل 4، 8، 10اے ، 25 اور 175(3) سے بهی متصادم ہیں۔ جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کرتیں۔

عدالت نے کہا جرگے اور پنچائتیں محدود حد تک ثالثی، مذاکرات اور مصالحت کر سکتی ہیں مگرکسی جرگے کو بهی فوجداری اور سول عدالت کے برابر کا مرتبہ حاصل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پولیس کے سامنے دیا گیا بیان قابل قبول شواہد تسلیم نہیں ہوتا، سپریم کورٹ


متعلقہ خبریں