شیخ رشید کا علاج میرے پاس ہے،رانا ثنا اللہ

پی ٹی آئی کو اسمبلی میں ویلکم کریں گے، استعفے واپس لینا ہوں گے، رانا ثنا اللہ

فوٹو: فائل


اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں وزرا کے بیانات نے ابہام پیدا کردیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ شیخ رشید جمہوریت کا کوڑا دان ہے جو جمہوریت کا کھا کر اسی تھالی میں سوراخ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف سے درخواست کی ہے کہ مجھے پبلک اکاوٹس کمیٹی  (پی اے سی) کا رکن بنادیں ۔شیخ رشید کو سامنے بٹھائیں، دو سوال کروں گا وہ ڈوب مریں گے۔

وزیر ریلوے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کی اہلیت ایک کونسلر کی بھی نہیں، وہ ہمیشہ نوازشریف کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں۔شیخ رشید کو میرے سامنے بٹھائیں، ان کا علاج میرے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار وہ ڈرون ہے جوبنی گالا سے چلایاجارہا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تبدیلی سرکار نے عام آدمی سے روٹی کا لقمہ چھین لیا،  ان سے جان چھڑانے کے لئے اپوزیشن کو متحد ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےشیخ رشید نے شہباز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شیخ رشید کی پبلک آکاؤنٹس کمیٹی ہو گی اور ایک شہباز شریف کی۔ میں شہباز شریف کے خلاف سپریم کورٹ جا رہا ہوں۔ چور مچائے شور کی فلم اب نہیں چل سکتی۔

انہوں نے بتایا کہ ریمانڈ کے دوران پڑوڈکشن آڈر جاری نہیں ہو سکتا۔ (ن) لیگ کو ڈیل نہیں ملی اس لیے ڈھیل کی طرف آ رہے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا عمران خان ملک کی ترقی کے لیے جتنی محنت کر رہے ہیں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں ان کے ساتھ سائے کی طرح کھڑا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ حکومتوں نے ملک کا خزانہ پوری طرح خالی کردیا ہے۔ عمران خان پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے لیکن ملک بچانے کے لیے مجبوراغریب پر بھی بوجھ ڈالنا پڑے گا۔

پاکستان ریلوے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا  کہ پاکستان ریلوے قوم کی آواز بنے گی۔ تھل ایکسپریس کوملتان سے کراچی کے لیے رابطہ ٹرینیں دی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 12 فروری کو ٹریکر اورتھل ایکسپریس کا افتتاح کیا جائے گا۔ اگر ضرورت ہوئی توہیلی کاپٹرپرٹرینوں کی نگرانی بھی کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ ریلوے پولیس کی تنخوائیں پنجاب کے برابر کریں گے۔ تمام ریلوے ملازمین کو ایک گریڈ دے کر جاوَں گا۔ اس کے علاوہ  ریلوے میں شکایت سیل بھی بنا دیا گیا ہے اور 23 مارچ تک پاکستان ریلوے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔


متعلقہ خبریں