پاکستان نے گزشتہ 13 ماہ کے دوران مختلف مسلم ممالک کے ساتھ تین اہم دفاعی معاہدے کیے ہیں۔ ان میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور گزشتہ روز طے پائے جانے والا بدر معاہدہ شامل ہے، جس پر ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے گئے ہیں۔
عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سلامتی کے نئے چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کے ان معاہدوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مسلم دنیا کے کئی ممالک اپنے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے، فوجی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ معاہدے محض سفارتی روابط کے اظہار تک محدود نہیں، بلکہ مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو نئی جہت دینے کی کوشش ہیں۔
تاہم ان تینوں معاہدوں کو ایک ہی نوعیت کا سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اگرچہ ان سب کا تعلق دفاع اور سلامتی سے ہے لیکن ان کے فریقین، دائرۂ کار اور بنیادی مقاصد ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ان معاہدوں کے تقابلی جائزے سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پاکستان اپنے دفاعی تعلقات کو کن خطوط پر آگے بڑھا رہا ہے، ان شراکت داریوں سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور ان کے ذریعے علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر کس نوعیت کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان تینوں معاہدوں کی نوعیت کیا ہے، ان میں کیا فرق ہے اور پاکستان کے لیے ان کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے۔
پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ سال 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ہوا جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی قوت کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں سے قائم قریبی تعلقات، مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔
اس معاہدے کی اہمیت کیا ہے؟
یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی عزم کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کو باہم منسلک قرار دیتے ہوئے جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی قوت مضبوط بنانے کا عہد کیا ہے۔
تاہم معاہدے کے اعلان میں مشترکہ ردعمل کی ہر ممکن عملی صورت، فوجی تعیناتی کے طریقۂ کار یا دیگر تفصیلی شرائط کی وضاحت نہیں کی گئی۔
2۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی قوت بڑھانا اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس صورت میں دیگر فریق متاثرہ ملک کی مدد کے لیے دستیاب باہمی معاونت کے تمام ذرائع استعمال کرنے کے پابند ہوں گے۔
معاہدے میں خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
اس معاہدے کی اہمیت کیا ہے؟
اس معاہدے کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب کے پہلے سے موجود دفاعی تعلقات میں ترکیہ بھی ایک باضابطہ مشترکہ دفاعی فریق بن گیا ہے۔
اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید منظم بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ 31 اگست 2026 کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ترکیہ نے اس معاہدے پر باضابطہ عمل درآمد کے لیے 20 اکتوبر کو پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پارلیمان میں توثیق کے لیے پیش کیا۔ معاہدہ پہلے خارجہ امور کی کمیٹی اور پھر پارلیمان کے عمومی اجلاس میں زیرِ غور آئے گا۔ اس پیش رفت کے بعد معاہدے کو ترکیہ میں قانونی منظوری دینے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
3۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا ’بدر معاہدہ‘
پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے گزشتہ روز (21 اکتوبر کو) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترکیہ کی وزارت دفاع نے بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کو فروغ دینا اور ان کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
Millî Savunma Bakanı Yaşar Güler’in de iştirakiyle Katar’da gerçekleşen Türkiye, Katar, Pakistan ve Endonezya arasındaki Bedir Mutabakat Zaptı imza töreninden görüntüler…
#MillîSavunmaBakanlığı
#YaşarGüler https://t.co/cbU9SDXFu2— T.C. Millî Savunma Bakanlığı (@tcsavunma) October 21, 2026
معاہدے میں فوجی تربیت، تکنیکی تعاون، تحقیق و ترقی اور دفاعی صنعتوں کے درمیان اشتراک کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
اس کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کی انفرادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی تیاری اور مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے متعلقہ دفاعی وزرا بھی تقریب میں شریک تھے۔
بدر معاہدے کی اہمیت کیا ہے؟
بدر معاہدہ پہلے دو دفاعی معاہدوں سے مختلف ہے۔ اس میں کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو دیگر تین ممالک پر حملہ قرار دینے کی شق کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے اس کا مرکز دفاعی پیداوار، فوجی صلاحیتوں، تربیت اور تحقیق و ترقی میں تعاون ہے۔
اس معاہدے کی اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بدر معاہدے کے تحت مستقبل میں دفاعی سازوسامان کی مشترکہ تیاری، تکنیکی مہارت کے تبادلے یا تحقیق و ترقی کے منصوبوں کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ ممکنہ تعاون کی مثالیں ہیں مگر ان پر عمل درآمد کے لیے مخصوص منصوبوں اور ان کی شرائط کی تفصیلات درکار ہوں گی۔
بدر مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔
’امریکی بالادستی کے ممکنہ خاتمے پر سکیورٹی خلا پُر کرنے کی کوشش‘
تینوں معاہدے ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں کیونکہ ان میں پاکستان اور ترکیہ مشترکہ فریق ہیں جبکہ پاکستان اور سعودی عرب پہلے دو معاہدوں میں شریک ہیں۔ تاہم انہیں ایک ہی معاہدے یا ایک ہی نوعیت کے دفاعی اتحاد کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
سابق سفیر و تجزیہ نگار برائے عالمی امور ملیحہ لودھی ان معاہدوں کو خصوصی طور پر مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ ہم نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہون نے کہا کہ پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی نوعیت مختلف ہے۔ یہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے جیسا نہیں ہے بلکہ دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت ہے۔ اس کے تحت چاروں ممالک دفاعی پیداوار، مشترکہ پیداوار اور دفاع کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔
ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تمام معاہدے، چاہے وہ دفاعی پیکٹ ہوں، معاہدے ہوں یا مفاہمتی یادداشتیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلیجی اور دیگر ممالک کا امریکا کے سکیورٹی نظام پر اعتماد کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی بالادستی کا دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے، جسے یہ ممالک مختلف دفاعی معاہدوں کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سابق سفیر نے مزید کہا کہ ہمیں اس معاملے کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ان معاہدوں کے مقاصد کیا ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں جو نئی صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس میں اب علاقائی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں مفادات رکھنے والی دوسری طاقتیں دفاعی تعاون کے نئے علاقائی انتظامات خود طے کریں گی۔ ان معاملات میں امریکا کا کردار شاید پہلے جیسا نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور اسے دوسرے ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کے مزید مواقع ملیں گے۔
ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے قطر کے ساتھ پاکستان کا تعاون زیادہ تر معاشی شعبے میں رہا ہے جبکہ دفاع کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا تعاون دیکھنے میں نہیں آیا۔ پاکستان کے بہت سے شہری بھی قطر میں کام کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کافی عرصے سے موجود ہیں۔ تاہم یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور قطر کے دفاعی تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز کا سبب بن سکتی ہے۔
گزشتہ 13 ماہ میں کیے جانے والے ان دفاعی معاہدوں سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو وسعت دے رہا ہے لیکن ان کے عملی اثرات کا تعین متعلقہ شرائط، قانونی مراحل اور مستقبل میں کیے جانے والے اقدامات سے ہوگا۔
