طویل بندش کے بعد جلال آباد کا پاکستانی قونصل خانہ فعال


اسلام آباد: افغانستان کے صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد میں پاکستان کا قونصل خانہ افغان حکام کی مداخلت کے سبب طویل عرصہ تک بند رہنے کے بعد آج آٹھ اکتوبر سے دوبارہ ویزوں کا اجرا شروع کر رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق افغان حکومت نے جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کو تمام ضروری سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈاکٹر فیصل کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا تھا کہ جلال آباد اور اس کے نواحی علاقوں کے رہائشی آج سے قونصل خانے میں ویزوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

پاکستان نے افغان گورنر حیات اللہ کی جانب سے جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے امور میں بے جا مداخلت پر قونصل خانہ بند کر دیا تھا۔ گورنر کی قونصل خانے کے امور میں مداخلت ویانہ کنونشن کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا تھا۔

قبل ازیں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے قونصل خانہ کے معاملہ پر تشویش ظاہر کی گئی تھی جس پر ان کے افغان ہم منصب کی جانب سے مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ سیکیورٹی تحفظات کے باعث رواں سال 30 اگست کو بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستان نے قونصل خانے کی سیکیورٹی 28 اگست کی پوزیشن پر بحال نہ ہونے تک قونصل خانہ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ معاملہ پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا جس پر افغان حکومت نے اسے جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ماضی میں بھی جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، نومبر 2017 میں جلال آباد میں ہی قونصل خانے کے ایک رکن کو نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جس پر پاکستان نے افغانستان سے احتجاج کرتے ہوئے افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا تھا۔


متعلقہ خبریں