اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے داماد اور ایڈن ہاؤسنگ اسکینڈل میں نامزد ملزم مرتضیٰ امجد کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم واپس لے لیا۔
عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں نظرثانی اپیل پر فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو حکم دیا ہے کہ ملزم کے خلاف ایڈن ہاؤسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں جائیں۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سابق چیف جسٹس کے داماد کو گزشتہ ماہ ستمبر میں دبئی سے حراست میں لیا تھا۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی اپیل میں مؤقف اپنایا تھا کہ کسی کو سنے بغیر ای سی ایل میں نام ڈالنا آئین کے آرٹیکل 15 اور 25 کی بھی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ اپنے ابتدائی احکامات پر نظرثانی کرے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست گزار کا مؤقف سننے کے بعد اپنے ابتدائی فیصلے کو واپس لے لیا۔ اس معاملے میں نیب کا الزام ہے کہ ایڈن ہاؤسنگ اسکینڈل سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے رواں برس تین جون کو مرتضیٰ امجد کا نام ای سی ایل میں ڈالتے ہوئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔
