کراچی: جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ عبوری ضمانت کے لیے 20 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائے جائیں۔
جمعہ کے روز آصف زرداری پہلے سے حاصل کردہ حفاظتی ضمانت میں توسیع کے لیے بینکنگ کورٹ کراچی پہنچے تھے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کے ہمراہ ان کے وکیل فارو نائیک اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
کراچی کی بینکنگ عدالت نے آصف زرداری سمیت مقدمہ میں نامزد متعدد ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے پر جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نامزد آصف زرداری کو تین ستمبر تک بینکنگ کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔
کراچی کی بینکنگ کورٹ پہنچنے پر آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ وہ گاڑیوں کے اتنے بڑے قافلہ کے ہمراہ آئے ہیں، ہیلی کاپٹر پر کیوں نہیں پہنچے تو ان کا کہنا تھا کہ آپ یہاں رک جائیں میں ہیلی کاپٹر میں واپس آتا ہوں۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ان سے سوال کیا کہ صدر پاکستان کون بنے گا؟ جس کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے اعتزاز احسن صدر بنیں۔
اس موقع پر ان سے پوچھا گیا کہ بڑے عرصہ بعد آپ کراچی کی عدالت میں آئے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ آپ دعوت دیں تو میں آ جاؤں گا، سوال کرنے والے صحافی نے کہا کہ آپ ہماری دعوت پر کہاں آتے ہیں جس پر پی پی پی شریک چیئرمین مسکراتے ہوئے کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے۔
آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے عدالت میں پیش ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں مقدمہ کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے موکل زیربحث ادارے سے پہلے ہی علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔
