تباہی سے بچنے کے لیے سوچ بدلنی ہو گی، عمران خان


اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ایک بڑی تعداد  کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں جبکہ وزرا اور سرکاری افسران عیاشیاں کر رہے ہیں۔

ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر قوم سے اپنے پہلے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں اس مشکل وقت میں ساتھ چلنے والے ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے مشکل مالی حالات نہیں تھے جو آج  ہیں۔

جب پیپلزپارٹی کی حکومت گئی تب ہمارا قرضہ ساٹھ ارب ڈالر تھا جو آج بڑھ کر 95 ارب ڈالر ہوگیا ہے، روپے پر سارا دباؤ بیرونی قرضوں کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بچوں کی سب سے زیادہ اموات میں پانچویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں بچوں کی اموات گندا پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ پاکستان میں خواتین کی زیادہ اموات زچگی کے دوران ہو جاتی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے 524 ملازم ہیں اور گاڑیوں کی تعداد 80 ہے جس میں سے 33  بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زائد  ہے، وزیراعظم ہاؤس 11 سو کنال پر بنا ہوا ہے۔

سیکرٹریز کی دو دو گاڑیاں ہیں جبکہ سرکاری افسران بڑے بڑے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت جو اپنے عوام پر پیسہ خرچ نہیں کرسکتی لیکن حکومتی افسران کا رہن سہن انگریزوں والا ہے، وزیراعظم نے گزشتہ سال کروڑوں روپے بیرونی دوروں پر ہی خرچ  کر دیے۔

ہمیں اپنے آپ ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے اپنے اندر تبدیلی لانا پڑے گی ہمیں اپنی عیاشیاں ختم کرنا ہوں گے۔ ہمارے ملک میں عوام کی بڑی تعداد دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی،  ہمارے ملک کے سوا دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اگر انہیں تعلیم نہیں دیں گے تو ملک کی کیا حالت ہوگی۔

ہم دنیا میں نمبر سات پر ہیں جو گلوبل وارمنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوگا، ہمیں آج اپنی حالت بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں اگر تباہی سے بچنا ہے تو سوچ کو بدلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مغرب نے اسلامی قوانین کو اپنا لیا اور ترقی کرتے چلے گئے جبکہ ہم نے اسلامی قوانین کو چھوڑ دیا ہے، ہم اپنے حکمرانوں سے سوال نہیں پوچھ سکتے۔

عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس میں ملٹری سیکرٹری کے تین کمروں کے مکان میں رہیں گے اور اپنے خرچے کم کریں گے جس کے بارے میں عوام کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔

میں اپنے لیے دو ملازم اور دو گاڑیاں رکھوں گا، وہ بھی سیکیورٹی کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے، ایجنسیوں نے کہا ہے کہ مجھے جان کا مسئلہ درپیش ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ قسم کی یونیورسٹی میں تبدیلی کرنے کا ارادہ ہے جبکہ باقی گورنر اور وزرائے اعلیٰ  ہاؤسز کو بھی تبدیل کردیں گے، ہم ہر اس جگہ پر خرچے کم کریں گے جہاں بہت زیادہ خرچ  ہو رہا ہے۔

ہم نے اپنے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، قرضے اپنی وقتی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں نے تو قرضے مانگنے کو عادت بنا لیا ہے، جب ایک ملک کا حکمران باہر جاکر پیسے مانگتا ہے تو ہمارے ملک کی بے عزتی ہوتی ہے، بھیک مانگنے سے کوئی قوم ترقی نہیں کرتی۔

20 کروڑ عوام میں صرف 8 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، عوام کو اپنی حکومت پر اعتماد ہی نہیں ہے، میں عوام کو اعتماد دوں گا کہ آپ کا ٹیکس غلط جگہ خرچ نہیں ہوگا، لوگ ٹیکس دیں تاکہ اس ملک سے غربت کو ختم کیا جاسکے۔

عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے ہم ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے۔

پاکستان کے جو پیسے چوری ہوکر باہر گئے ہیں ہم اسے واپس لائیں گے اور اس کے لیے ہم ٹاسک فورس بنائیں گے۔ اس ملک میں ہر سال دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔

اس ملک کا جو لیڈر اپنے پیسوں کو باہر کے ملکوں میں رکھتا ہے اسے ووٹ نہ دینے کی کوشش کریں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کی برآمدات بڑھانی ہیں جس کے لیے ہم ہر طرح کو کوشش کریں گے اور اس ملک میں سرکایہ کاری کو لے کر آئیں گے، اس کے لیے ایک ون ونڈو بھی بنائیں گے، پاکستان میں سرمایہ کاروں کو پیش آنے والی مشکلات دور کریں گے، چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تاکہ روز گار میں اضافہ ہو۔

دیگر ملکوں کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مدد کریں گے، اُن کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں گے جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں سہولتیں پیدا کریں گے، انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان کے بینکوں میں رکھیں، پاکستان کے مشکل وقت کو ختم کرنے کے لیے اووسیز پاکستانی ہماری مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں اگر کرپشن بہت زیادہ ہو تو وہ ملک ترقی کر ہی نہیں سکتا، ہم کرپشن کو ختم کریں گے اور نیب کو ہر طرح کی مدد فراہم کریں گے، کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو 20 سے 25 فیصد دیںے کا قانون اسمبلی سے پاس کریں گے۔

ہم ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ اور کرپشن کو مکمل روکنے کی کوشش کریں گے، جب تک مافیا اس ملک میں ہیں ہم اپنے اداروں کو ٹھیک نہیں کرسکتے، جب کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو یہ شور مچائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم اس ملک میں انصاف کا نظام لے کر آئیں گے، ہم چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ مقدمات کو جلد سے جلد نمٹایا جائے اور ایک سال میں ہی مقدمے کا فیصلہ ہو، اس ملک میں کئی بیواؤں کی زمینوں پر قبضے ہیں اور ان کا فیصلہ نہیں ہو رہا، میں چیف جسٹس سے درخواست کروں گا کہ کم از کم بیواؤں کے مقدمات کو فوری حل کرائیں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کی جیلوں میں بے گناہوں کو باہر نکالیں گے اس کے لیے وکلا کا گروپ بنائیں گے جو جیلوں کا دورہ کریں گے اور قیدیوں کے حالات جاننے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں