سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سرگرم اتحاد نے دارالحکومت ریاض اور مملکت کے جنوبی علاقے کی جانب داغے گئے 2 کروز میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فوجی اتحاد کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران پسپا کیے جانے والا یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل اتحاد نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کیے جس کے بعد سعودی دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
التحالف:
اعتراض وتدمير صاروخين طواف (كروز) بمنطقتي الرياض والجنوبية. https://t.co/pUlP8Fe4g7
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 8, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکوں سے کچھ دیر پہلے سعودی سول ڈیفنس نے ریاض کے علاقے میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا۔ حکام نے بعد میں اعلان کیا کہ خطرے کی صورتِ حال ختم ہو گئی ہے۔
یہ حملے گزشتہ روز حوثیوں کے زیرِ انتظام یمن کی وزارتِ صحت کے مطابق دارالحکومت صنعا کے قریب سعودی فضائی حملوں میں کم از کم 33 افراد کے ہلاک اور 39 زخمی ہونے کے بعد کیے گئے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے زیر انتظام سرکاری خبر رساں ادارے ’صبا‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز کے حملوں میں صنعا کے مشرق میں واقع حوثیوں کے مضبوط گڑھ بنی حشیش کے ایک قصبے میں گھروں کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ سعودی عرب کے مرکز برائے بین الاقوامی مواصلات نے کہا تھا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
التحالف:
الدفاع الجوي اعترض ودمر صاروخين باليستيين أطلقتهما الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه الرياض. https://t.co/ssHlmSisv2
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 8, 2026
صنعا کے صحتونہ اسپتال کے ڈائریکٹر عبدالعزیز الدیلمی نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ کئی متاثرین اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران بھی حملے جاری رہے اور طبی عملے کے بعض ارکان بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں سر، سینے اور ٹانگوں پر شدید زخموں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے باعث کئی زخمیوں کو انتہائی تشویش ناک حالت میں لایا گیا۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کو ختم کر دیا ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد اور صنعا پر قابض حوثی گروپ کے درمیان حملوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی تھی۔
حوثیوں نے جولائی میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے سعودی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ سعودی عرب نے یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں۔
شن الطيران الحربي السعودي خلال الـ24 ساعة الماضية 105 غارات جوية وصواريخ استهدف بها الأعيان المدنية في العاصمة صنعاء ومحافظات الجوف وتعز وعمران وحجة وصعدة ومأرب ولحج وذلك من خلال طائرات “F-15” و “تايفون” أقلعت من قاعدتي خميس مشيط والطائف والعدوان الصاروخي من نجران وجيزان، وخلفت عشرات الشهداء والجرحى من المدنيين جلُّهم من النساء والأطفال.
ليبلغ إجمالي غارات العدوان السعودي منذ بدء التصعيد على بلدِنا 4369 غارة جوية وصاروخا.— العميد/ يحيى سريع (@Yah_Saree) November 7, 2026
یمن میں یہ لڑائی مشرقِ وسطیٰ کی وسیع تر جنگ کا ایک محاذ بن گئی ہے، جو فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق اس پیش رفت نے یمن کی 12 سالہ جنگ کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔ اس تنازع کے باعث پہلے ہی ملک میں دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک جنم لے چکا ہے اور عرب دنیا کا غریب ترین ملک تقسیم ہو چکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی عالمی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے اکتوبر میں بتایا تھا کہ لڑائی کے تازہ سلسلے کے آغاز سے اب تک 2 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب نے 2015 میں عرب ممالک کے اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کا مقصد حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کرنا تھا۔
