ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران کے مضبوط عزم کے مقابلے میں کھڑی ہونے والی ہر طاقت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی جارحیت، دہشتگردی اور دباؤ کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں برتری حاصل کی۔ انتخابی نتائج کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت اور عسکری حلقوں کی جانب سے ریپبلکنز کی شکست کو ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے لیے سیاسی دھچکے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایک انٹرویو میں امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی اتحادیوں کو مسلسل سیاسی اور انتخابی ناکامیوں کا سامنا ہے، جو محض ملکی سیاست میں اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایران کے قومی عزم کو شکست دینے میں امریکا کی ناکامی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے فوجی نظریے، زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی، ٹارگٹ کلنگ کی مہم اور دیگر غیر موثر فوجی حکمت عملیوں کی ناکامی سے کوئی بھی غیر جانبدار تجزیہ کار انکار نہیں کر سکتا۔ ایران کی دفاعی اور تباہ کن طاقت کے ساتھ قیادت، عوام اور مسلح افواج کے مضبوط عزم نے امریکی حکمت عملی کو ناکام بنایا ہے۔
ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتہا پسند ساتھی ایران کو تباہ کرنے کے ارادے سے اس محاذ آرائی میں داخل ہوئے تھے، تاہم صورتحال اس کے برعکس ہو گئی اور اب امریکا کو طویل المدتی دباؤ، اندرونی بحرانوں اور ایرانی مسلح افواج و مزاحمتی محاذ کی جانب سے ناکامیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ بڑی طاقتوں کے حق میں نہیں رہتا۔ ایران کے عزم اور ثابت قدمی کا مقابلہ کرنے والی کسی بھی طاقت کو بالآخر عالمی رائے عامہ میں اپنی ساکھ اور اثر و رسوخ کے زوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
