پشاور کے علاقے حیات آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت فہد خان کے نام سے ہوئی اور ان پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ نادرا آفس کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرکے دفتر جار رہے تھے۔
پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہو رہا ہے تاہم حملہ آور کی شناخت اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سابق ممبر قومی اسمبلی اور سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نور عالم خان نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کے بھتیجے کو موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔
My nephew Fahad khan deputy director NADRA was shot in front of his NADRA headquarters Peshawar by terrorist riding on motorcycles @fkkundi @DrMianSaeedPSP @OfficialDGISPR @MohsinnaqviC42 @CMShehbaz https://t.co/sRbs8ErfFq
— Noor Alam Khan (@NOORALAMKHAN) November 6, 2026
واضح رہے کہ پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اکتبور 10 کو ضلع ٹانک میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد خان محسود کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کرے قتل کر دیا تھا۔
اسی سے قبل ستمبر 28 کو ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں پولیس ٹریفک کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوئے تھے۔ ٹانک میں پولیس کی گاڑی پر حملے کا دوسرا واقعہ 13 جولاتی کو پیش آیا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ 23 اکتوبر کو ضلع کرک میں ایک حملے کے دوران ڈی ایس پی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) عمران الدین سمیت 4 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
دوسری جانب اسی مہینے کی 3 تاریخ کو ضلع مہمند میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا جبکہ ٹانک میں 4 پولیو ورکرز کو اغوا کیا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کو جواز بنا کر 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا تھا جس کے بعد صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی گزشتہ ہفتے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اور امن و امان کی بحالی کو وفاقی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”دہشت گردی کا سر کچل دیا جائے گا“۔
