امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ سے وابستہ بڑی کمپنیوں کی تحقیقات کی تیاری شروع کردی ہے۔
امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، دفاع، صحت اور مالیاتی شعبوں کی متعدد کمپنیاں کانگریس کی ممکنہ تحقیقات کی زد میں آسکتی ہیں۔٫
مڈ ٹرم الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی شکست نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں واضح اکثریت کے باعث اب ٹرمپ انتظامیہ کا قانون سازی، بلز کی منظوری اور دیگر مالی و داخلی معاملات سے متعلق فیصلہ سازی پر مکمل اختیار نہیں رہا۔ ٹرمپ پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرچکے ہیں اور یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ملنے کے بعد ڈیموکریٹ قانون سازوں کو کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کرنے، سمن جاری کرنے، سماعتیں بلانے اور مطلوبہ معلومات و دستاویزات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو قانونی طور پر پابند کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ان کے خاندان سے براہ راست کاروباری تعلقات رکھنے والی اور ان کی انتظامیہ کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کو خاص طور پر تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ان میں وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ کے مجوزہ وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیر کے لیے فنڈز دیے ہیں۔
فوربز کے مطابق بلومبرگ نے رپورٹ کیا تھا کہ ایمازون اور این ویڈیا سمیت بعض کمپنیوں کو انتخابات سے پہلے ہی کانگریس کی جانب سے معلومات طلب کرنے کے خطوط موصول ہوچکے تھے۔ ایوانِ نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کے متوقع چیئرمین رابرٹ گارسیا نے بھی رواں سال فروری میں سیمفور کو بتایا تھا کہ ان کا دفتر مختلف کمپنیوں سے رابطے شروع کرچکا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بعض کمپنیوں نے انتخابات سے پہلے ہی کانگریس کی ممکنہ تحقیقات کی تیاری شروع کردی تھی۔ ان اقدامات میں ڈیموکریٹ سیاست دانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں اور اداروں کے اندر خصوصی ٹیمیں تشکیل دینا شامل تھا۔
فوربز کے مطابق رابرٹ گارسیا نے فروری میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کمپنیوں کی تحقیقات کے مواقع موجود ہیں جو امریکی خاندانوں کی مدد اور عام شہریوں کے لیے اخراجات کم کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔ مالیاتی تجزیہ کاروں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ڈیموکریٹس مہنگے پٹرول کے باعث تیل کمپنیوں اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ادویات کی قیمتوں سے متعلق معاہدے کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کی تحقیقات کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں پر توجہ
فوربز کے مطابق ابتدائی طور پر ان کمپنیوں کو تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن میں صدر ٹرمپ یا ان کے بیٹوں کا کوئی کاروباری کردار ہے۔
ان میں پریڈکشن مارکیٹ سے وابستہ کمپنی کالشی بھی شامل ہے جہاں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر مشیر ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ جونیئر کی سرمایہ کاری کمپنی 1789 کیپٹل سے مالی معاونت حاصل کرنے والی کمپنیوں سے بھی پوچھ گچھ ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایلون مسک کے سرکاری ادارے ڈوج کے منصوبوں میں فنڈنگ کرنے والی کمپنیوں کو بھی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ کے مجوزہ وائٹ ہاؤس بال روم کے لیے فنڈز دینے والی بڑی کمپنیوں سے بھی ان کے فنڈز اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات کیے جاسکتے ہیں۔ بلومبرگ کے مطابق ایمازون، ایپل، کامکاسٹ، میٹا، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کو انتخابات سے پہلے ہی ان عطیات سے متعلق معلومات طلب کرنے کے لیے خطوط بھیجے گئے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بعض معاملات میں کانگریس کے لیے براہ راست وائٹ ہاؤس کے بجائے نجی کمپنیوں سے سرکاری معاملات سے متعلق رابطوں اور دستاویزات حاصل کرنا زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نشانے پر
مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی کمپنیوں اوپن اے آئی، گوگل، میٹا اور اینتھروپک کو بھی کانگریس کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
فوربز کے مطابق ڈیموکریٹس ری پبلکنز کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ضابطوں کے دائرے میں لانے کے زیادہ حامی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے معاشرے پر بڑھتے ہوئے اثرات اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی ردعمل نے بھی ان کمپنیوں کو ممکنہ تحقیقات کے لیے اہم ہدف بنا دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سلیکون ویلی کی بعض کمپنیوں نے بھی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ میٹا نے ڈیموکریٹ سیاست دانوں کو فنڈز دیے جبکہ اوپن اے آئی نے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے ساتھ عشائیوں کا اہتمام کیا۔ کمپنی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور گوگل کے عہدیدار بھی واشنگٹن میں ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں شریک ہوئے۔
سینیٹر ایڈ مارکی نے منگل کی شام بگ ٹیک کے عہدیداروں سے متعلق ایک پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف اتنے زیادہ سمن جاری ہوں گے کہ انہیں پرنٹ کرنے کے لیے نئے جنگلات لگانے پڑیں گے۔
دفاعی کمپنیوں کے معاہدوں کی جانچ پڑتال
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو بھی ڈیموکریٹس کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ قانون ساز دفاعی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے علاوہ فوج کے ساتھ کام کرنے والی مینوفیکچرنگ اور کان کنی کی کمپنیوں کے معاملات کی تحقیقات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ان میں دفاعی ٹیکنالوجی کی کمپنی پالنٹیر، فوجی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنی اینڈوریل اور پینٹاگون کے ساتھ عدم مسابقت کی شرائط والے معاہدے رکھنے والی کمپنیاں شامل ہوسکتی ہیں۔ 1789 کیپٹل سے مالی معاونت حاصل کرنے کے بعد پینٹاگون کے معاہدے حاصل کرنے والی کمپنیوں سے بھی سوالات کیے جاسکتے ہیں۔
ڈیموکریٹس پہلے ہی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل سے ان اطلاعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرچکے ہیں جن کے مطابق ایسی کمپنیوں کو پینٹاگون کی 3 ارب ڈالر سے زائد کی مالی معاونت حاصل ہوئی جن کے ٹرمپ کے بیٹوں سے تعلقات ہیں۔ کانگریس میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو اس معاملے کی براہ راست تحقیقات کا زیادہ موقع ملے گا۔
نجی جیلیں اور تارکین وطن کی ملک بدری
ٹرمپ انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کی پالیسی سے فائدہ اٹھانے والی نجی جیل کمپنیوں کو بھی کانگریس کی جانچ پڑتال کا سامنا ہوسکتا ہے۔
فوربز کے مطابق مالیاتی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ معاہدے کرنے والی کمپنیوں، خصوصاً جیو گروپ اور کورسِوک، کے معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
جیو گروپ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو بڑی رقوم عطیہ کرنے والی کمپنیوں میں شامل رہی ہے اور ان کے سیاسی اتحاد میگا انکارپوریٹڈ کے سپر پی اے سی کو بھی بڑے عطیات دے چکی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق کمپنی کو منافع بخش سرکاری معاہدے ملنے کے فوراً بعد اس کے بعض سیاسی عطیات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ڈیموکریٹس اب اس معاملے کی تحقیقات کرسکتے ہیں۔
انشورنس اور ادویات ساز کمپنیاں بھی زد میں
امریکی شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات اور علاج کے بڑھتے اخراجات بھی ڈیموکریٹس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
فوربز کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی توانائی و تجارت سے متعلق کمیٹی افورڈیبل کیئر ایکٹ کے تحت ہیلتھ انشورنس کے بڑھتے اخراجات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے نتیجے میں انشورنس کمپنیوں سے بھی پوچھ گچھ ہوسکتی ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس پہلے ہی اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا بعض انشورنس کمپنیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان کے ہیلتھ انشورنس منصوبوں سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔
ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے معاہدے بھی تحقیقات کی زد میں آسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس پہلے سوال اٹھا چکے ہیں کہ آیا حکومت اور دوا ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کی قیمتوں سے متعلق ہونے والے معاہدے واقعی امریکی شہریوں کے لیے فائدہ مند تھے یا ان کا مقصد صرف ٹرمپ خاندان کو مالی فائدہ پہنچانا تھا۔
سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے متوقع چیئرمین رون وائیڈن نے بدھ کی صبح اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان خصوصی مفادات کے خلاف کارروائی کریں گے جنہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ٹرمپ کے ساتھ مل کر امریکی خاندانوں کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے انشورنس کمپنیوں پر بھی تنقید کی جو منافع بڑھانے کے لیے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں تاخیر کرتی یا انہیں علاج سے محروم رکھتی ہیں۔ وائیڈن نے دوا ساز کمپنیوں کے سربراہان پر بھی الزام لگایا کہ وہ ادویات کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں اور اس دوران ٹرمپ انتظامیہ سے خصوصی فوائد حاصل کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی کی سربراہی سنبھالنے کے بعد ان کمپنیوں کو امریکی عوام کو نقصان پہنچانے اور ٹرمپ انتظامیہ کی بدعنوانی میں مدد دینے کے معاملے پر جواب دینا ہوگا۔
وال اسٹریٹ اور ایپسٹین سے تعلقات کی تحقیقات
ڈیموکریٹس کی توجہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے امریکی مالیاتی اداروں اور وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں پر بھی ہوسکتی ہے۔
فوربز کے مطابق ڈیموکریٹ قانون ساز پہلے ہی ایسی قانون سازی متعارف کراچکے ہیں جس کے تحت مالیاتی اداروں کے نگران حکام کو ان بینکوں اور مالیاتی عہدیداروں کی تحقیقات کا حکم دیا جاسکے گا جنہوں نے ایپسٹین کے ساتھ کاروبار کیا تھا۔
اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ کسی مالیاتی ادارے یا اس کے عہدیداروں نے ایپسٹین اور اس کے مبینہ جنسی استحصال کو ممکن بنانے میں مدد دی تو انہیں فوجداری تحقیقات یا الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی نے بھی انتخابات کے بعد ایپسٹین کے وال اسٹریٹ سے تعلقات کو اپنی تحقیقات کا اہم حصہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ کمیٹی کو اب مالیاتی اداروں کو سمن جاری کرنے اور بڑے بینکوں کے سربراہان کو حلف کے تحت بیان دینے کے لیے طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
رون وائیڈن بھی سینیٹ کی فنانس کمیٹی کی سربراہی سنبھالنے کے بعد ایپسٹین کے مالی معاملات اور وال اسٹریٹ سے اس کے تعلقات کی تحقیقات آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ان بینکوں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ایپسٹین کے جرائم کو چھپانے میں مدد کی۔
تحقیقات کب شروع ہوں گی؟
فوربز کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ڈیموکریٹس کن کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کریں گے اور یہ عمل کب شروع ہوگا۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے بدھ کو سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشاورت کی جائے گی۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے بھی اسی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
دوسری جانب ایوانِ نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کے متوقع چیئرمین رابرٹ گارسیا نے انتخابات میں کامیابی کے بعد ممکنہ طور پر تحقیقات کی زد میں آنے والوں کو مختصر پیغام دیتے ہوئے کہا تھا، ’وکیل کرلیں۔‘



