امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کی شکست کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں انتخابی نتائج پر بات کرنے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں زیر تعمیر نئے بال روم، سکیورٹی انتظامات اور ڈرون پورٹ منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک جدید ڈرون پورٹ تیار کیا جارہا ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ سائز اور وزن کے 100 سے زائد ڈرون رکھنے کی گنجائش ہوگی، اس منصوبے کا مقصد وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن ڈی سی کی فضائی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے بال روم کی چھت اور عمارت کو جدید حفاظتی تقاضوں کے مطابق تیار کیا جارہا ہے، جہاں ڈرونز کی موجودگی اور دفاعی سرگرمیوں کے لیے خصوصی انتظامات ہوں گے۔
20 منٹ کے خطاب میں انتخابی شکست کا ذکر نہیں کیا
امریکی صدر نے انتخابی نتائج کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریب میں تقریباً 20 منٹ تک گفتگو کی تاہم اس دوران انہوں نے ری پبلکن جماعت کی شکست یا ڈیموکریٹس کی کامیابی پر کوئی بات نہیں کی۔
ٹرمپ نے زیادہ تر وقت وائٹ ہاؤس کے نئے بال روم، تعمیراتی کام، عمارت کی مضبوطی اور مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات کی تفصیلات بیان کرنے میں گزارا۔
انہوں نے اپنی تعمیراتی منصوبہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نئے بال روم میں بڑے سرکاری اور بین الاقوامی اجتماعات منعقد کیے جاسکیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ بھی مستقبل میں وائٹ ہاؤس کے اس بال روم کے مہمان ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ انتظامات میں بڑے غیر ملکی وفود اور عالمی رہنماؤں کی میزبانی کے لیے جگہ محدود ہے، اسی لیے بڑے بال روم کی تعمیر ضروری تھی۔
’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ٹرمپ‘
صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا نے جنگ کی اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایران کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔
ٹرمپ کے مطابق اگر امریکا کارروائی نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرسکتا تھا، جو ان کے بقول مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہوتا۔
انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ان کی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انتخابی شکست میں ایران جنگ کا کردار تسلیم کرلیا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے انتخابی نتائج کے بعد فاکس نیوز اور وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویوز میں تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جنگ نے ری پبلکن جماعت کی انتخابی شکست میں کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں سے ایک تھی، تاہم انہوں نے فوجی کارروائی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے درست فیصلہ کیا اور اگر دوبارہ موقع ملا تو بھی یہی اقدام کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق ایران جنگ نویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے اور امریکی عوام میں یہ تنازع ابتدا ہی سے غیر مقبول رہا ہے۔ ڈیموکریٹس امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران الزام عائد کیا کہ جنگ کے باعث پیٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے امریکی گھرانوں پر مالی دباؤ بڑھا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے مقاصد اور اس کے خاتمے کی مدت کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف بیانات بھی دیے ہیں۔
اگر میں بیلٹ پر ہوتا تو ہم جیت جاتے، ٹرمپ
امریکی صدر نے انتخابی شکست کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کا اپنا نام بیلٹ پر ہوتا تو ری پبلکن جماعت کامیاب ہوجاتی۔
ٹرمپ کے اس بیان کو انتخابی نتائج کے بعد اپنی جماعت کی شکست کے اثرات کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی مقبولیت امیدواروں تک منتقل کرنے میں ناکام رہا ہوں،ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس نے میرا مواخذہ کیا تو اس سے ڈیموکریٹک پارٹی تباہ ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کانگریس میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے سیاسی چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جدید ڈرون پورٹ اور سکیورٹی منصوبہ
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے نئے بال روم کی تعمیر کو مستقبل کے صدور کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا۔
ان کے مطابق عمارت کی چھت کو اس انداز میں تیار کیا جارہا ہے کہ وہاں جدید ڈرونز رکھنے اور فضائی نگرانی کے انتظامات کیے جاسکیں۔
انہوں نے عمارت کے شیشوں اور حفاظتی دیواروں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ڈرون، میزائل اور گولیوں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔
شکست کے بعد ری پبلکن جماعت کو نئے سیاسی چیلنجز کا سامنا
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ری پبلکن جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق ایران جنگ، مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں ری پبلکن جماعت کی انتخابی مشکلات کی اہم وجوہات میں شامل رہیں۔
ڈیموکریٹس نے انتخابی کامیابی کے بعد ایران جنگ کے خاتمے، عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اگرچہ اپنے پہلے عوامی خطاب میں انتخابی شکست پر خاموشی اختیار کی، تاہم بعد میں دیے گئے انٹرویوز میں انہوں نے ایران جنگ کے انتخابی اثرات کا اعتراف کیا اور فوجی کارروائی کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔



