پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی ووٹرز کی ناراضی کا اظہار ہیں۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی گرفت مضبوط ہونے سے ٹرمپ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر نگرانی اور جانچ پڑتال میں اضافہ ہوگا۔
آج منگل کو مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا جو ٹرمپ کی صدارت کے وسط میں ان کے لیے ایک بڑا انتخابی دھچکا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اپوزیشن کو قانون سازی روکنے، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کرنے اور اہم تقرریوں میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ری پبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں، بشمول کنساس اور آئیووا میں بھی کامیابی حاصل کی جبکہ ٹیکساس، اوہائیو، شمالی کیرولائنا اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستوں میں بھی سینیٹ کی نشستیں جیتیں۔
کنساس میں ڈیموکریٹ امیدوار اور میتھوڈسٹ مذہبی رہنما ایڈم ہیملٹن نے ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دے دی۔ اس طرح وہ 1932 کے بعد ریاست سے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ بن گئے۔
’ٹرمپ کا بدترین خواب‘
سابق پاکستانی سفیر علی سرور نقوی نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج ٹرمپ کے لیے ان کے بقول ”بدترین خواب“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ووٹرز نے صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں دونوں کو مسترد کر دیا ہے۔
علی سرور نقوی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ امریکی عوام نے ری پبلکن پارٹی، صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بھی ٹرمپ کے ان سابقہ وعدوں کے برعکس ہے جن میں انہوں نے نئے تنازعات میں الجھنے سے گریز کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد ٹرمپ کے لیے اپنی صدارت کے باقی دو برس میں قانون سازی کے لیے پہلے جیسی حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
تاہم علی سرور نقوی کے مطابق ڈیموکریٹس کے پاس اب بھی ایسا کوئی غیرمعمولی قومی رہنما دکھائی نہیں دیتا جو اگلے صدارتی انتخابات میں پارٹی کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ سکے۔
تجزیہ نگار کرنل (ر) عابد لطیف نے ٹرمپ کی شکست کی ایک وجہ مناسب سیاسی حمایت کے بغیر صدارتی احکامات پر انحصار کو قرار دیا اور صدر کے سیاسی انداز پر تنقید کی۔
ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نتائج محض ڈیموکریٹس کی روایتی کامیابی سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے لاطینی اور ہسپانوی نژاد ووٹرز کے رجحان میں تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیگریشن پالیسیوں نے یہاں تک کہ طویل عرصے سے امریکا میں آباد اور شہریت حاصل کرنے والی کمیونٹیز کو بھی بدظن کر دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کی کامیابی کو مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور غیر مقبول ایران جنگ پر امریکی عوام کی تشویش کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران جنگ اس لیے بھی ایک غیر معمولی طور پر اہم خارجہ پالیسی کا معاملہ بن گئی کیونکہ اس کے اثرات امریکی گھرانوں کے اخراجات اور ایندھن کی قیمتوں پر پڑے۔
’ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا احتساب ہوسکتا ہے‘
بریگیڈیئر (ر) وقار حسن نے کہا کہ انتخابات کے نتائج نے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی اور خارجہ پالیسی میں ان کے بڑھتے ہوئے یکطرفہ رویے کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں، محصولات اور وسیع تر خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی زیادہ سخت جانچ پڑتال ہو سکے گی۔
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے انتخابی نتائج کو ٹرمپ کی پالیسیوں پر عوامی ریفرنڈم قرار دیا اور کہا کہ ایران جنگ امریکی معیشت اور مہنگائی پر اثرات کے باعث انتخابات کا ایک اہم معاملہ بن گئی تھی۔
خورشید محمود قصوری نے ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر امریکی انتخابات میں خارجہ پالیسی اہم انتخابی موضوع نہیں ہوتی، تاہم اس تنازع نے ایندھن کی قیمتوں اور امریکی گھرانوں کے معیارِ زندگی کو براہِ راست متاثر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں آنے والی یہ تبدیلی امریکا سے باہر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے، خصوصاً عالمی سفارت کاری اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے حوالے سے۔
’غزہ کے بچوں کیلئے امید کی علامت‘
سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عبدل السید کو کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ ان کی جیت کے اثرات ایک انتخاب سے کہیں آگے تک جائیں گے۔ انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی مشکلات کا بھی حوالہ دیا۔
عارف علوی نے لکھا:
’’عبدالسیّد کو مبارک باد، الحمدللہ!
آپ کی کامیابی ایک انتخاب سے کہیں بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے۔ یہ غزہ کے ان بچوں کے لیے بھی امید کی علامت ہے جو نسل کشی کی ہولناکیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو نفرت اور ناانصافی کو آخری فتح حاصل نہیں کرنے دینا چاہتے۔
مسلمان ہونا کسی بھی شخص کو نفرت، تعصب یا دھمکیوں کا نشانہ بنانے کا جواز نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
Congratulations Abdul El Sayed, الحمدللہ
Your victory resonates far beyond one election, for the children of Gaza enduring the horrors of genocide, and for all those who refuse to let hatred and injustice have the last word.
Being Muslim should never make anyone a target of hatred, prejudice or intimidation. No one should have to face the vile excesses of Islamophobia.
It is a reminder that democracy matters: that the people’s mandate is sacred, that every vote counts, and that the will of the people cannot be wished away, manipulated or denied with guns.
People’s voice must prevail. May this lesson resonate far beyond your own shores.
Wishing you every success! @AbdulElSayed
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) November 4, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نتیجہ یاد دہانی ہے کہ جمہوریت اہمیت رکھتی ہے اور عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ مقدس ہوتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کردہ پیش گوئیوں کے مطابق، مشی گن سے عبدل السید کی کامیابی انہیں امریکی سینیٹ کا پہلا مسلمان رکن بنا دے گی۔
جمی کارٹر کی شکست سے موازنہ
سیاست دان اور تجزیہ کار مشاہد حسین نے بھی ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تاریخ نے خود کو دہرایا ہے اور ایران ایک بار پھر امریکی انتخابات پر فیصلہ کن اثر ڈالنے والا معاملہ بن گیا ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی شکست کا موازنہ 1980 میں امریکی صدر جمی کارٹر کی شکست سے کیا۔ اس وقت ایران میں امریکی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی ناکام کوشش کارٹر کی انتخابی شکست کی ایک اہم وجہ بنی تھی، جس کے بعد رونالڈ ریگن صدر منتخب ہوئے تھے۔
مشاہد حسین نے لکھا: ’’تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ یہ امریکی سیاسی تاریخ میں دوسری مرتبہ ہے کہ ایران نے امریکی انتخابات پر اثر ڈالا ہے۔ جولائی 1980 میں ایران میں امریکی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی کارٹر کی ناکام کوشش ان کی ریگن کے ہاتھوں شکست کا سبب بنی تھی، اور اب ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی تباہ کن جنگ نے ان کی صدارت کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘
HITORY REPEATS ITSELF: This is 2nd time in US political history that Iran has influenced an American Election! in July 1980,Carter’s failed rescue of US hostages in Iran led to his defeat by Reagan & now @realDonaldTrump disastrous war against Iran has demolished his Presidency!
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) November 4, 2026
امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے بھی ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی میں ایران جنگ کو ایک اہم عنصر قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا: ”ایران جنگ نے ٹرمپ کی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ذلت آمیز شکست میں اہم کردار ادا کیا۔ 74 فیصد امریکی ووٹرز نے ایران میں ناکام جنگ کو اپنے ووٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر قرار دیا۔“
The Iran war played a key role in Trump’s humiliating loss of both houses of Congress. 74 per cent of American voters cited the failed war as a crucial factor in influencing their vote
— Maleeha Lodhi (@LodhiMaleeha) November 4, 2026
انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کو اپنی صدارت کی بقیہ مدت کے لیے یکسر تبدیل شدہ سیاسی صورت حال کا سامنا ہوگا۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول سے انہیں ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے اور نامزدگیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ ان کی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کے زیادہ اختیارات مل گئے ہیں۔
تاہم صدر کو ویٹو کا اختیار حاصل رہے گا، جس کے ذریعے وہ ڈیموکریٹس کی قانون سازی کو روک سکتے ہیں، بشرطیکہ کانگریس ان کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ دو تہائی حمایت حاصل نہ کر سکے۔
نتائج سامنے آنے کے فوری بعد ٹرمپ نے نسبتاً مفاہمت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے ڈیموکریٹس کی قانون سازی کے خلاف اپنے ویٹو کے اختیار کو استعمال کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
یہ نتائج اس صدر کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہیں جن کی جماعت انتخابات سے قبل کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی تھی۔ امریکی عوام نے معاشی بے یقینی، ایران جنگ پر تشویش اور ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کی بڑھتی ہوئی مخالفت کی بنیاد پر ملک گیر سطح پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
