بھارت کی عدالت نے معروف فلم ساز اور اداکار انوراگ کشیپ کے خلاف قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کردیے، وہ برہمن برادری سے متعلق متنازع سوشل میڈیا تبصرے کے مقدمے میں عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے بی پی نیوز کے مطابق 54 سالہ فلم سازکے خلاف یہ کارروائی عدالت میں پیش نہ ہونے پر کی گئی، انہیں اخبار کے ذریعے بھی سمن ارسال کیا گیا تھا تاہم عدم حاضری پر عدالت نے قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
انوراگ کشیپ بالی ووڈ کی معروف فلموں ’گینگس آف واسے پور‘ اور ’بلیک فرائیڈے‘ سمیت متعدد فلموں کی ہدایت کاری اور فلم سازی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی میں عدالت نے انتہاپسند ہندو تنظیموں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے قانونی مشیر اور وکیل کی درخواست پر انوراگ کشیپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔
عدالت نے یہ کارروائی بھارتی قانون کی دفعات 192 اور 352 کے تحت کرنے کا حکم دیا تھا، جن کا تعلق مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے ارادے سے توہین کرنے سے ہے، جبکہ درخواست میں جھوٹی افواہیں پھیلانے سے متعلق دفعہ کا بھی حوالہ دیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انوراگ کشیپ نے 16 اپریل 2025 کو سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پیغام پوسٹ کیا تھا، جس سے پوری برہمن برادری کی دل آزاری ہوئی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
عدالتی حکم کے مطابق قابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم کو لازماً گرفتار کیا جائے گا بلکہ وہ عدالت کی مقرر کردہ ضمانتی رقم یا مچلکے جمع کرا کے ضمانت حاصل کرسکتا ہے۔



