ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی فیملی کورٹ نے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی۔
فیملی کورٹ کی جج عنبرین اقبال نے کیس کی سماعت کے بعد خلع کی ڈگری جاری کی۔
عدالت کے مطابق خاتون اپنے شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں تھیں جبکہ فریقین کے درمیان مصالحت کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔
عدالت میں سماعت کے دوران بتایا گیا کہ فریقین کے درمیان مصالحت کی کوششیں کی گئیں تاہم ان کوششوں کے باوجود خاتون اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھنے پر رضامند نہیں ہوئیں۔
عدالت کے مطابق خاتون نے اپنے بیان حلفی میں شوہر سے نفرت اور ان کے ساتھ رہنے سے انکار کا اظہار کیا۔ مصالحت کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد فیملی کورٹ نے حمیرا طیبہ کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی۔
فیملی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کرتے ہوئے قرار دیا کہ حق مہر کے حوالے سے دونوں فریقین کا ایک دوسرے پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔
عدالت نے بچوں کے نان نفقے، غیر شادی شدہ بیٹیوں کے اخراجات اور دیگر استدعاؤں سے متعلق باقی دعویٰ واپس لیے جانے پر اسے خارج کردیا۔
فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری کی مصدقہ نقل شوہر اور متعلقہ یونین کونسل کو بھجوانے کا حکم بھی دے دیا۔
مشتاق احمد خان فلسطین کے حامی سرگرم رہنما ہیں
مشتاق احمد خان پاکستان کے سابق سینیٹر، سیاست دان اور فلسطین کے حامی سرگرم رہنما ہیں۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان سے وابستہ رہے، بعدازاں جماعت سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ (PRM) قائم کی۔
مشتاق احمد خان مارچ 2018ء میں خیبر پختونخوا سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے اور مارچ 2024ء تک سینیٹ کے رکن رہے۔
سینیٹر بننے سے قبل وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے صوبائی امیر اور نائب امیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
اکتوبر 2025ء میں انہوں نے جماعت اسلامی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔اس وقت ان کا کہنا تھا کہ وہ انسانی حقوق، جمہوریت، آزاد میڈیا، فلسطین اور وفاقی اکائیوں کے آئینی حقوق کے لیے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔
اکتوبر 2025ء میں وہ غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل ہوئے۔
اسرائیلی فورسز نے فلوٹیلا کو روک کر مشتاق احمد خان سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ پاکستان واپس پہنچے۔
10 جنوری 2026ء کو انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان رائٹس موومنٹ کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا۔اس جماعت کا نعرہ حقوق، مزاحمت اور اصلاحات ہے۔ وہ اس جماعت کے بانی اور چیئرمین ہیں۔
