ایران کے جزیرے قشم پر امریکی حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس سے قبل پیر کو ایران اور قطر کے حکام کے درمیان مذاکرات سے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم ہونے کی امیدیں بڑھنے پر برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی تھی۔
منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 3 سینٹ یا 0.03 فیصد اضافے کے بعد 104.80 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 20 سینٹ یا 0.21 فیصد بڑھ کر 96.66 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اس سے قبل گزشتہ روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں مزید شدت آنے اور خطے سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ حملے کی رپورٹ نے خام تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث اضافے کا عنصر دوبارہ شامل کر دیا ہے۔
ٹم واٹرر کے مطابق جب مارکیٹیں سفارتی حل کی امیدوں پر قیمتیں طے کرنا شروع کر رہی تھیں، اسی دوران فوجی سرگرمیوں کی یہ رپورٹ سامنے آنے سے مارکیٹ کا مجموعی رجحان تبدیل ہو گیا۔
دوسری جانب فلپ نووا کی مارکیٹ انسائٹ کی سربراہ پریانکا سچدیوا کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو برقرار رکھنے میں ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث اضافی قیمت کا بڑا حصہ پہلے ہی خام تیل کی مارکیٹ میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک تیل کی حقیقی ترسیل یا اہم توانائی تنصیبات میں مزید خلل کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے، محض نئی خبروں کی بنیاد پر قیمتوں میں مزید اضافہ برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جنگ سے قبل عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتا تھا۔ ایران جنگ کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ووٹرز کے لیے بھی اہم مسئلہ بن گیا ہے، جس سے صدر ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کیلیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اکتوبر کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع میں دوبارہ شدت آنے کے خدشات تھے۔ یہ صورتحال امریکا میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔



