یورپی یونین نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر قومی پابندیوں کو روکنے کا فیصلہ کر لیا۔
یورپی یونین نے رکن ممالک کی جانب سے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر الگ الگ پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آسٹریا کی جانب سے 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی مجوزہ قانون سازی 12 ماہ کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یورپی کمیشن کے ترجمان تھامس ریگنیئر نے جمعرات کو بتایا کہ کمیشن نے ایسے قومی قوانین کے مسودوں کو 12 ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یورپی یونین کے مجوزہ مشترکہ قوانین کے دائرے میں آتے ہیں۔ یورپی یونین چاہتی ہے کہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے تمام رکن ممالک میں یکساں ضابطے نافذ ہوں۔
رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کو خدشہ ہے کہ اگر ہر ملک اپنی عمر کی حد اور پابندیوں کا الگ نظام متعارف کرائے گا تو پورے بلاک میں قوانین کا تفاوت پیدا ہوگا، اس کے علاوہ قومی قوانین پہلے سے نافذ ہونے کی صورت میں رکن ممالک کے لیے مشترکہ یورپی قانون کی منظوری پر توجہ کم ہونے کا امکان بھی ہے۔
یورپی یونین کے مجوزہ قانون میں کیا ہے؟
یورپی کمیشن نے 17 ستمبر کو بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے یورپی یونین کڈز ایکٹ (EU Kids Act) کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے اور 13 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو والدین یا سرپرست کی نگرانی میں محدود سہولتوں کے ساتھ اکاؤنٹس فراہم کرنے کی تجویز ہے۔
مجوزہ نظام کے مطابق 15 سال کی عمر سے بچے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود بنا اور چلا سکیں گے جبکہ 13 اور 14 سال کے بچوں کے لیے محدود اکاؤنٹس اور روزانہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کی استعمال کی حد تجویز کی گئی ہے۔
مجوزہ قانون میں سوشل میڈیا کے علاوہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارمز، آن لائن گیمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور ڈیجیٹل ساتھیوں کے حوالے سے بھی بچوں کے تحفظ کے اقدامات شامل ہیں، ان میں عمر کی تصدیق، نجی اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ ترتیب اور بچوں کو اجنبی افراد کے غیر مطلوبہ رابطوں سے محفوظ رکھنا شامل ہے تاہم یہ تجاویز ابھی قانون سازی کے مراحل میں ہیں۔
آسٹریا، فرانس اور یونان کی صورتِ حال
آسٹریا نے 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز پیش کی تھی لیکن یورپی کمیشن نے اسے مجوزہ مشترکہ قانون سے متصادم قرار دیتے ہوئے 12 ماہ کے لیے مؤخر کر دیا۔
فرانس کی مجوزہ قانون سازی کے بارے میں یورپی کمیشن نے نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے تاہم اسے آسٹریا کی طرح روکنے کی توقع نہیں کیونکہ فرانس نے اپنا مسودہ یورپی یونین کی مشترکہ قانون سازی کی تجویز سامنے آنے سے پہلے برسلز کو مطلع کیا تھا۔ کمیشن نے فرانس کے قانون کے مستقبل کے بارے میں حتمی مؤقف واضح نہیں کیا۔
یونان اس معاملے میں مختلف پوزیشن رکھتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یونانی پارلیمان نے 23 اکتوبر کو 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور کیا تھا، اس قانون کی تیاری یورپی یونین کی نئی تجویز سے پہلے شروع ہوئی تھی۔ اٹلی اور سلوواکیہ سمیت دیگر رکن ممالک کی مجوزہ پابندیوں پر یورپی کمیشن کے فیصلے ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
مشترکہ قانون کی منظوری کا اگلا مرحلہ
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اب توجہ یورپی یونین کڈز ایکٹ پر مذاکرات اور موجودہ قوانین کے مؤثر نفاذ پر مرکوز ہونی چاہیے، کمیشن کو امید ہے کہ رکن ممالک اور یورپی پارلیمان آئندہ چند ماہ میں نئے ضابطوں پر اتفاق کر لیں گے۔
اس مجوزہ قانون کے تحت عمر کی تصدیق کے لیے یورپی سطح پر ایک مشترکہ ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد بچوں کی عمر کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی ذاتی معلومات اور شناختی دستاویزات کو محفوظ رکھنا ہے۔
بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں کے حوالے سے یورپی یونین کی یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف ممالک میں بچوں کی آن لائن حفاظت، ذہنی صحت، سائبر ہراسانی اور سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں تاہم یورپی یونین کا موجودہ مؤقف یہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی سطح کے مختلف قوانین کے بجائے مشترکہ یورپی ضابطہ اختیار کیا جائے۔


