امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا اعلان ایک روز بعد واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایران پر آج حملہ نہیں ہو گا“ جبکہ دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ ”ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں“ اور یہ بھی کہ ”سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے۔“
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایران پر حملے کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ”نہیں، آج کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔“ اس موقع پر انہوں نے ایران کے بارے میں 2 ’انتہائی ایڈوانس‘ انٹیلی جنس رپورٹیں ملنے کا دعویٰ کر کے انہیں اپنے فیصلے کے بنیادی محرک کا تاثر دینے کی کوشش کی۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل میں کل 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے وسط مدتی انتخابات داخلی سیاسی اعتبار سے اہم ہیں کیونکہ انتخابی نتائج کانگریس میں ان کی جماعت کی پوزیشن اور آئندہ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کے عام انتخابات وزیرِاعظم نیتن یاہو کی سیاسی بقا اور ان کی حکومت کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج اور سکیورٹی معاملات انتخابی مہم کے اہم موضوعات ہیں۔
گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں جو کل ہی ہو سکتا ہے تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے۔ ان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے حوالے سے سفارتی اور فوجی دونوں امکانات پر غور کر رہا ہے
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا میں وسط مدتی اور اسرائیل میں انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کیلئے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جان بوجھ کر طول دے رہا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کے خدشات نے فوری معاہدہ کرنے سے متعلق تہران کی ہچکچاہٹ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کا انکشاف نہیں کریں گے، ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا ہے اور اب ممکن ہے کہ باقی کام بھی مکمل کرنا پڑے۔
Trump on Iran:
There will not be a strike today. https://t.co/5uUAz8PfU1
— Clash Report (@clashreport) October 25, 2026
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایران معاہدہ کرے گا یا نہیں، تاہم دعویٰ کیا کہ دونوں صورتوں میں جیت امریکا ہی کی ہو گی۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا: ’’ہم تیل کی صنعت کو ایسے معاملے پر یرغمال نہیں بننے دیں گے، سچ پوچھیں تو روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، تاہم سفارت کاری کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارتکاری کے دروازے بند کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے، اس لیے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا یک طرفہ مطالبات پر اصرار کر رہا ہے، جن میں ایران سے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی شامل ہے تاہم کوئی بھی ایرانی یہ مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی ترجمان نے یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں تنازع میں امریکا کا ساتھ دینے کے بجائے آزادانہ کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔
آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ گزرگاہ محفوظ نہیں کیونکہ امریکا اور اسرائیل پورے خطے کو ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک یہ صورت حال برقرار رہے گی، ایران کے پاس اپنی علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔



