پاکستان ریلوے نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت اپنے تمام افسران کے فضائی سفر پر پابندی عائد کر دی، جبکہ سرکاری دوروں کے لیے ریل کے ذریعے سفر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق افسران کو فضائی سفر کی مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی، جبکہ سرکاری گاڑیوں میں سفر پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ یہ ہدایات تمام چیف ایگزیکٹو افسران اور سینئر جنرل منیجرز کی منظوری سے جاری کی گئی ہیں۔
دوسری جانب محفوظ ٹرین آپریشن یقینی بنانے کے لیے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات پر محکمہ ریلوے میں 31 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
تمام چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ
لاہور میں پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق فیلڈ افسران کی تمام چھٹیاں تین ماہ کے لیے منسوخ کردی گئی ہیں، جبکہ انہیں ٹرین آپریشنز کی نگرانی کے لیے اتوار کو بھی فیلڈ میں دورے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیرِ ریلوے کی ہدایت پر پاکستان ریلویز میں ہنگامی حالت نافذ
ہنگامی حالت کا نفاذ محفوظ ٹرین آپریشن کو یقینی بنانے کیلیے کیا گیا ہے
فیلڈ افسران کی تمام چھٹیاں تین ماہ کیلیے منسوخ کر دی گئیں
افسران کو اتوار کو بھی ٹرین آپریشنز کی فیلڈ میں جا کر نگرانی کی ہدایت جاری https://t.co/iS1MuSPeK6
— Pakistan Railways (@PakrailPK) October 24, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ سول اور مکینیکل چیف انجینئرز اپنے متعلقہ علاقوں میں ریلوے آپریشنز اور حفاظتی انتظامات سے متعلق روزانہ رپورٹس وزارت کو جمع کرائیں گے۔ ہیڈ آف سیفٹی سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔
افسران کو سرکاری امور کیلیے دوسرے شہر جانے کیلیے ٹرین سے سفر لازم قرار دے دیا گیا
سول، مکینیکل کے چیف انجینئرز روزانہ اپنے اپنے امور بارے رپورٹ وزارت بھیجیں گے
سیفٹی ہیڈ سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب
ہنگامی حالت 31 دسمبر تک نافذ العمل رہے گی https://t.co/QCnUocOcdm
— Pakistan Railways (@PakrailPK) October 24, 2026
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق مسافروں کو ممکنہ حد تک محفوظ سفر فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
خراب بوگیاں، ویگینیں اور انجن 31 دسمبر تک درست کرنے کا حکم
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے خراب یا بریکوں کے بغیر چلنے والی تمام مسافر بوگیوں اور مال بردار ویگنوں کو 31 دسمبر تک سروس سے نکال کر مکمل طور پر قابل استعمال بنانے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان ریلوے میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد حادثات اور ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صرف جولائی میں ایسے 7 واقعات رپورٹ ہوئے۔
حادثات کی اہم وجوہات میں ریلوے پٹریوں کی خستہ حالی، خراب بوگیوں اور ویگنوں کا استعمال، کانٹوں کا دستی نظام، انسانی غلطیاں، مرمت میں کوتاہیاں اور وسائل کی کمی شامل ہیں۔
وزیر ریلوے نے 31 دسمبر تک ٹرینوں میں موجود خامیاں دور نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔



