لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے 2 سال بعد محکماتی انکوائری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سابق سی ای او ہیلتھ نارووال ڈاکٹر خالد جاوید کی درخواست پر سنایا،جسٹس مزمل اختر شبیر نے پیڈا ایکٹ کے تحت ان کے خلاف جاری انکوائری اور پنشن روکنے کا آرڈر کالعدم قراردے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2 سال کی مدت پوری ہونے پر انکوائری ختم ہونا ملازم کا قانوناً حاصل شدہ حق ہے، پیڈا ایکٹ 2026ء ترمیم کا ماضی سے اطلاق نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ کا اپنے فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ ترمیمی قانون کا اطلاق مستقبل کے معاملات پر ہوگا، ماضی کے بند شدہ کیسز پر نہیں۔ قانون میں واضح ذکر نہ ہو تو نئی ترمیم کو ماضی سے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے 2 سال بعد انکوائری ختم ہونے کا قانون برقرار ہے ،انکوائریز وقت پر مکمل نہ ہونے کا خمیازہ ریٹائرڈ ملازم نہیں بھگت سکتا۔پیڈا ایکٹ میں 25 فروری 2026 کی ترمیم کے باوجود پرانے کیسز ختم تصور ہوں گے۔
عدالت نے سابق سی ای او ہیلتھ نارووال ڈاکٹر خالد جاوید کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی روکی گئی پنشن اور تمام واجبات فوری جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔


