سولہویں قومی اسمبلی کے 30واں اجلاس کے دوران 64 نکاتی ایجنڈے پر کارروائی جاری ہے جس دوران وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ممبران کی جانب سے سگریٹ نوشی کے خلاف قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی طرف توجہ دلائی۔
انہوں نے ’عوامی مفاد‘ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق سے کہا کہ یہ ایوان ہے اور ہم قوانین بنانے والے ہیں لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کی لابیز میں جائیں تو وہ ’دھواں چھوڑنے والی چمنیاں‘ بنی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ راہداریوں میں سگریٹ نہیں پی سکتے لیکن وہ سب سگریٹ کے دھوئیں سے بھری ہوتی ہیں حالانکہ یہاں سگریٹ پینے کے لیے ایریاز بھی مختص ہیں لیکن سگریٹ پینے والے ممبران اسمبلی ادھر ادھر دھواں پھیلاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ملکی قانون ہے کہ عمارتوں کے اندر سگریٹ نوشی نہیں کی جا سکتی لیکن اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جس کے باعث دل کے عارضہ اور کینسر جیسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اسپیکر سے اپیل کہ کہ راہداریوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی لگوائی جائے تاکہ سگریٹ نہ پینے والے افراد کو بلواسطہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی تصحیح کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمباکو نوشی قومی اسمبلی کی گیلریز میں نہیں بلکہ قومی اسمبلی کی لابیوں میں ہو رہی ہے۔
#NASession
@naveedqamarmna https://t.co/hLyDjuiK4S— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) October 20, 2026
ںعیمہ کشور نے بھی کہا کہ ہم نماز پڑھنے جاتے ہیں تو سگریٹ کے دھویں کی وجہ سے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ عمارات کے اندر سگریٹ نوشی کے خلاف قانون بنا ہوا ہے اور پارلیمنٹ میں بھی سگریٹ نوشی کے لیے الگ جگہیں مختص کی گئی ہیں جہاں کرسیاں بھی رکھی گئی ہیں۔ ”لیکن یہ کرنا تو ہے، عامر ڈوگر صاحب، بدینی صاحب، اعجاز جاکھرانی صاحب، ڈاکٹر طارق فضل صاحب اور امین الحق صاحب نے کرنا ہے۔“
ایاز صادق نے کہا کہ ہم ممبران سے درخواست کریں گے کہ وہ سگریٹ نوشی کے خلاف قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
وزیر توانائی کی غیر حاضری پر ہاؤس نالاں
اجلاس کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر اسمبلی سید نوید قمر کی جانب سے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کا ہیڈ آفس کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔
انہوں نے وزیر برائے توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی توجہ چاہتے ہوئے کہا کہ ‘اس اقدام سے ادارے کی آپریشنل کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، غیر ضروری سرکاری اخراجات ہو سکتے ہیں، اور قومی معیشت میں کراچی کی اسٹریٹجک اہمیت کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اس پر وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے اجلاس کو بریف کیا کہ پی پی ایل کا ہیڈ آفس کراچی سے مکمل طور پر شفٹ نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی وہاں سے ’سارے بندے‘ اسلام آباد منتقل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے منتقلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ آفس کی بلڈنگ 1955 میں کراچی میں بنی تھی جو اب خستہ حال ہو چکی ہے اور ’رہنے کے قابل نہیں‘ ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ کراچی سے پی پی ایل کے افسران کے اسلام آباد دوروں پر سالانہ تقریباً 12 کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔
پی پی ایل کے کراچی میں 110 ملازم ہیڈ آفس سے کراچی میں ہی ایک اور چھوٹی بلڈنگ میں شفٹ کیے جار ہے ہیں۔ پی پی ایل کا ایک پلاٹ بھی ہے جہاں پر نئی بلڈنگ بنانے کی تجویز دی گئی تھی مگر اس پر 35 ارب روپے کی لاگت آ رہی ہے۔ پی پی ایل میں کمپںی کے صرف 25 فیصد شیئرز ہیں، باقی 75 فیصد حکومت کے ہیں، جن کی باقی کمپنیاں مثلاً ماڑی پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) وغیرہ کے ہیڈ آفس بھی اسلام آباد میں ہیں کیونکہ متعلقہ وزیر بھی اسلام آباد میں ہوتے ہیں لہذا افسران کے اسلام آباد کے دورے ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ایل کے کل 536 ملازم ہیں، جن میں سے 150 کراچی میں ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی منتقلی کا عمل 2024 سے جاری ہے جب 172 بندے پہلے ہی شفٹ ہو گئے تھے اور تب کسی ممبر اسمبلی نے اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سے اسلام آباد کے آئے روز سفر کے اخراجات کم کرنے کے لیے ہیڈ آفس کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا جس پر سید نوید قمر نے کہا کہ ’بہت ہی فضول جواب‘ ہے اور وزیر کی جانب سے ’اس انتہائی اہم‘ معاملے پر تسلی بخش جواب کا تقاضا کیا۔
اس پر اسپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو وزارت توانائی کے متعلقہ افسر کو کال کر کہ بلانے اور اجلاس کو تسلی بخش جواب دینے کی ہدایت کی۔
بعدازاں وزیر توانائی علی پرویز ملک نے اجلاس میں آمد کے بعد پی پی ایل کے ہیڈ آفس کی منتقلی کے معاملے پر کہا کہ یہ فیصلہ کمپنی کے بورڈ نے کیا ہے اور اس فیصلے سے کوئی کراچی کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ 2024 میں ان کی آمد سے قبل کیا گیا تھا اور ایسا کسی کی پسند یا ناپسند پر نہیں کیا گیا بلکہ کمپنی کے بورڈ نے کیا۔
علی پرویز نے ہاؤس کو غلط بریف کیا، نفیسہ شاہ کا الزام
علی پرویز کے جواب پر پی پی پی کی ممبر اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ 2025 میں اسی ہاؤس میں علی پرویز ملک نے میرے سوال کے جواب میں تحریری طور پر کہا تھا کہ پی پی ایل کا ہیڈ آفس 1960 کی دہائی سے کراچی میں موجود ہے اور وہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس ہاؤس کو بتائی جانے والی بات اور ’مقدس سچ‘ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن یہاں ایک سال قبل علی پرویز نے کہا کہ پی پی ایل کا ہیڈ آفس منتقل نہیں کیا جائیگا اور آج اس کے برعکس بیان دے رہے ہیں۔
نفیسہ شاہ نے علی پرویز سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے ایک ایک ادارہ وفاق کیوں منتقل کیا جا رہا ہے اور پی پی ایل کے ہیڈ آفس کو 4 ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد منتقل کرنے پر کیوں زور دیا جا رہا ہے؟
جواب میں علی پرویز نے اعتراض کیا کہ ممبران اسمبلی پی پی ایل کی کارکردگی پر بات کرنے کے بجائے ہیڈ آفس کی اسلام آباد منتقلی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ”جو فیصلہ مسلسل 3 بورڈز نے جو فیصلہ کر چکے ہیں، ان سے زیادہ حکمت یہاں پر ایک ہمارے قابل احترام ممبر کے پاس موجود ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کہاں پر دفتر منتقل ہونا چاہیے۔“
انہوں نے پی پی پی کے ممبران کو مزید سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ کمپنیاں گورننس کے باقاعدہ طریقہ کار سے چلتی ہیں، اس کے مطابق چلنے دیں، اپنی پسند ناپسند کی نظر سے مت دیکھیں اور کمپنی کے اہداف پر فوکس کرنے دیں۔“
اس کے علاوہ پی پی پی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی، اور صبا تالپور نے بھی پی پی ایل کے ہیڈ آفس کی کراچی سے منتقلی پر اعتراض اٹھایا اور علی پرویز سے جواب چاہا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل روز کیوں؟
اس کے بعد عالیہ کامران نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے ہے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیرِ توانائی سے جواب مانگا کہ قیمتوں کا تعین ہر 15 دن کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کیوں کیا جا رہا ہے؟
اس پر علی پرویز نے کہا کہ قیمتوں کا تعین 7 روز کی رولنگ اوسط کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ”ہر روز جب انٹرنیشنل مارکیٹ کا ریٹ آتا ہے تو ایک روز کا ریٹ ایڈ ہو جاتا ہے اور ایک روز کا ریٹ نکل جاتا ہے اور قیمت کا اعلان روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ اس طرح 7 دن کی اوسط قیمت کے حساب سے ریٹ جاری کیا جاتا ہے جس کا تعین ایک شفاف طریقے سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری (اوگرا) کرتی ہے۔
عالیہ کامران نے جواباً کہا کہ قیمت کا تعین کرنے کا طریقہ کار تو انہوں نے بتا دیا لیکن 15 دن کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کی پالیسی کیوں اپنائی گئی؟
جواب میں علی پرویز ملک نے کہا کہ کسی دور میں قیمتوں کا تعین سال میں اور پھر ماہانہ بنیادوں پر کیا جاتا تھا لیکن چونکہ ہم سارا تیل امپورٹ کرتے ہیں جس کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر 20، 20 ڈالر تک بدلتی ہے تو سپلائی چین کو بحال رکھنے ، ناجائز منافع خوری کو روکنے، اور ذخیرہ اندوزی کے تدارک کے لیے قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے قریب تر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اوسط قیمت آج بھی 7 روز کی ہے لیکن روزانہ کی بنیاد پر اعلان قیمت کو عالمی مارکیٹ کے قریب تر رکھنے اور لگاتار سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
نوٹ: خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔
