خیبر پختونخوا حکومت نے نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں حفاظتی معائنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت کمیٹیاں نجی اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرکے ان کی تعمیراتی حالت اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیں گی۔
حکومتی اقدام کے تحت اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، بنیادوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی جانچ کی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے، کمیٹیاں خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کے ساتھ مرمت اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے بھی تجاویز پیش کریں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اجرا کے تین دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ اور اصلاحی سفارشات محکمہ تعلیم کو پیش کریں۔ محکمہ تعلیم نے متعلقہ اداروں کو نجی اسکولوں کی فہرستیں فراہم کرنے اور معائنے کے عمل میں تعاون کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ
خیبر پختونخوا حکومت کا یہ اقدام پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ 15 اکتوبر 2026 کو پیش آنے والے اس حادثے میں 32 بچے اور 2 خاتون ٹیچرز جاں بحق ہوئیں۔
واقعے کے بعد اسکول کی عمارت کی تعمیراتی حالت، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی نگرانی پر سوالات اٹھے۔ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کیں، جبکہ اسکول کے مالک کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
صوبے بھر میں حفاظتی معائنے کے فیصلے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا نجی اسکولوں کی عمارتیں طلبہ اور تدریسی عملے کے لیے محفوظ ہیں یا نہیں۔
معائنے کے دوران تعمیراتی نقائص سامنے آنے پر متعلقہ کمیٹیاں مرمت، عمارت کو مضبوط بنانے اور دیگر ضروری اصلاحی اقدامات کی سفارش کریں گی۔
پشاور کے حالیہ سانحے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور نگرانی کے نظام کو ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے۔ صوبے بھر میں حفاظتی جانچ کا مؤثر نفاذ ایسے حادثات کی روک تھام اور طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔



