خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے دو دن بعد معمولاتِ زندگی بحال ہونے لگے ہیں ، تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے کھل گئے تاہم دوسری جانب خیبر پختونخوا بار کونسل نے آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت کے ایمرجنسی اقدامات کے بعد پشاور شہر میں بازار اور کاروباری مراکز دوبارہ کھل گئے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بحال ہو گئی ہے تاہم سکیورٹی کے سخت اقدامات برقرار ہیں۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی جس کی حتمی منظوری صدر مملکت آصف زرداری نے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کرکے دی۔ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد پشاور میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے تھے جبکہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور نے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے تھے۔
کئی اضلاع میں اسکول بند رہیں گے
محکمہ تعلیم کے ذرائع نے کہا ہے کہ پشاور میں تمام اسکول کھل گئے ہیں تاہم قبائلی اضلاع اور بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان میں ایمرجنسی کے باعث اسکول بند رہیں گے۔
اس کے علاوہ پشاور شہر کے تمام اہم راستے بھی کھول دیئے گئے ہیں، جبکہ بی آر ٹی سروس بھی دو روز بعد بحال ہو گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون، صدر اور دیگر علاقوں سے کنٹینرز اور خاردار تاریں ہٹا دی گئیں۔ جی ٹی روڈ، خیبر روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک مکمل بحال کر دی گئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں متعدد کیسز ملتوی
دوسری جانب خیبر پختونخوا بار کونسل کی کال پر وکلاء آج صوبے بھر کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے، جس کے باعث پشاور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں متعدد کیسز ملتوی کر دیے گئے۔
خیبر پختونخوا بار کونسل نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے غیر جمہوری اقدام کے خلاف وکلاء آج عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔
واضح رہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے اعلان کے پیش نظر پیر کے روز پشاور بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ یہ اقدامات وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد کیے گئے۔
حکام نے پشاور کینٹونمنٹ اور ریڈ زون کی جانب جانے والے علاقوں سمیت شہر کی اہم شاہراہیں بند کر دی تھیں، جبکہ اسکول، کالج اور جامعات بھی بند اور پبلک ٹرانسپورٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون اور وائی فائی سروسز بھی متاثر ہوئی تھیں، جنہیں بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔



