وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں حکومتی امور، امن و امان اور روزمرہ انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ کمیٹی میں حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے ارکان میں رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور خالد مقبول صدیقی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی کا پہلا اجلاس، صوبے کی صورتحال کا جائزہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو مانیٹرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی، جس میں خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبے میں امن و امان کے مسائل سے نمٹنے، انتظامی امور کو مؤثر بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کمیٹی کا مقصد ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات کی نگرانی، حکومتی اقدامات کے جائزے اور امن و امان سے متعلق امور پر رابطہ کاری کو بہتر بنانا ہے۔
گورنر کی سربراہی میں قائم مشاورتی کونسل سے الگ کمیٹی
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ مانیٹرنگ کمیٹی، 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد تشکیل دی گئی 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل سے الگ ہے۔
مشاورتی کونسل کی سربراہی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں، جس کا کام وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامی امور چلانے میں گورنر کی معاونت کرنا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کی قائم کردہ مانیٹرنگ کمیٹی صوبے میں گورننس، امن و امان اور روزمرہ انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج
خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کے درمیان سکیورٹی پالیسی، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور سیاسی معاملات پر اختلافات کے بعد وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کو صوبے میں امن و امان بہتر بنانے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری مؤثر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
نئی مانیٹرنگ کمیٹی کی تشکیل کو صوبے میں انتظامی امور کی نگرانی اور وفاقی حکومت کے اقدامات میں رابطہ کاری کے لیے ایک اضافی انتظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



