نیٹو کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر جنرل الیکسس گرنکیوچ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر ماسکو نے نیٹو کے رکن ممالک کی سرزمین پر حملے کی حماقت کی تو حملے میں شامل ہر چیز کو تباہ کر دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل الیکسس گرنکیوچ نے کہا کہ نیٹو کی سرزمین پر بڑے روسی حملے کا خطرہ فی الحال کم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ ہے۔
امریکی فضائیہ کے جنرل الیکسس گرنکیوچ نے نیٹو کی ممکنہ جنگ میں کامیابی کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے، تاہم وہ اپنے کسی بھی رکن ملک پر حملے کو روکنے، اس کی شدت کم کرنے اور اسے مکمل طور پر ناکام بنانے کے لیے کارروائی کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کا مقصد کسی بھی حملے کو اس حد تک ناکام بنانا ہے کہ حملہ آور کے لیے یہ کوشش مکمل طور پر بے سود ثابت ہو۔
NATO’s SACEUR General Alexus Grynkewich:
The risk of a major attack on NATO territory right now is actually relatively low.
The reason is Vladimir Putin’s war is ongoing in Ukraine, and his military is unfortunately engaged in that conflict.
That force is not available to threaten NATO territory.
That doesn’t mean he couldn’t do something smaller, and obviously we do see the sabotage activity and everything else that’s ongoing.
— Clash Report (@clashreport) October 12, 2026
‘روس حملے کی کوشش نہیں کرے گا’
نیٹو فوجی کمانڈر نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے روس کو فوجی کمک دستیاب نہیں اس لیے وہ کسی حملے کی کوشش نہیں کرے گا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس کوئی محدود کارروائی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک میں تخریب کاری کی سرگرمیاں اور اس نوعیت کے دیگر واقعات بدستور دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
نیٹو کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن نیٹو دوسری عالمی جنگ کے بعد سن 1949 میں اس مقصد کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ یہ سوویت یونین کی یورپ کی جانب توسیع کے خطرے کو روکے گی۔ اس کے علاوہ امریکا نے اسے یورپ میں قوم پرستانہ رجحانات کی بحالی کو روکنے اور اس براعظم میں سیاسی انضمام کو فروغ دینے کے ایک آلے کے طور پر دیکھا۔
اس مغربی دفاعی اتحاد کی جڑیں سن 1947ء کے فرانس اور برطانیہ کے اس ڈنکرک معاہدے سے جا ملتی ہیں، جس کا ابتدائی مقصد جرمنی کے کسی ممکنہ حملے کی صورت میں اس کا مل کر مقابلہ کرنا تھا۔ اس سیاسی اور فوجی اتحاد کے اصل 12 بانی ارکان امریکا، برطانیہ، بیلجیم، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، آئس لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور پرتگال ہیں۔
اس تنظیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی رکن ریاست کو کسی بیرونی ملک سے خطرہ لاحق ہو تو اسے فوجی اور سیاسی ذرائع سے باہمی دفاع فراہم کیا جائے۔ کسی بھی ملک کے اجتماعی دفاع کی شق چارٹر کے آرٹیکل نمبر پانچ میں رکھی گئی ہے۔ جسے باقاعدہ امریکا نے نائن الیون حملوں کے بعد کیا تھا۔


