چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے اس اقدام کو سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (اتوار کو) وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری لی گئی، اجلاس کے شرکا کو صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ جس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کردیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل:
ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔
ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے- otherwise بہت نقصان ہوجائیگا
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 11, 2026
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے ایکس پر اپنے بیان میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے،عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کو کمزور کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا، مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق اپنی انا کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے وگرنہ بہت نقصان ہوجائے گا۔
خوفزدہ عناصر نے آمرانہ طرز عمل اختیار کیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق گورنر راج کے ذریعے آئین پاکستان کی سنگین پامالی اور عوام کے حقِ رائے دہی کی توہین کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا کوئی اخلاقی، قانونی، آئینی یا جمہوری جواز نہیں اور یہ صوبے کے عوام کے حقیقی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
تحریک نے کہا کہ ملک میں غیر جمہوری اقدامات اور گورنر راج کا نفاذ ہمیشہ پیپلز پارٹی کا خاصا رہا ہے۔ بلوچستان میں خراب انتظامی اور امن و امان کی صورت حال کے باوجود ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، جب کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ وفاق کی سالمیت اور یکجہتی پر کاری ضرب ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پرامن لانگ مارچ اور عوامی تحریک سے خوف زدہ عناصر نے آمرانہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کا غیر قانونی نفاذ پاکستان کی سلامتی اور وفاق کی بقا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے گورنر راج کے معاملے پر جلد اجلاس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادیوں کی مشاورت سے پاکستان اور وفاق کو بچانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔



