فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے نجی اسپتالوں اور کلینکس پر ٹیکس اور پوائنٹ آف سیل نظام کے نفاذ کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کل ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔
واضح رہے کہ یہ اعلان ایف بی آر کی جانب سے چند روز قبل جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مختلف شعبوں سے وابستہ سروس فراہم کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ ٹیکس اتھارٹی کے نظام کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر منسلک ہونے کے لیے الیکٹرانک انوائسنگ کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کا استعمال کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی بہتر بنانا اور ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے مطابق کل ملک بھر میں نجی کلینکس اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز احتجاجاً معمول کی طبی سروسز فراہم نہیں کریں گے اور علامتی ہڑتال کی جائے گی۔
پی ایم اے نے اپنی ضلعی اور صوبائی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے نجی کلینکس، اسپتالوں، میڈیکل تنظیموں اور طبی ماہرین سے رابطہ کیا جائے۔
پی ایم اے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے صحت کی خدمات پر پوائنٹ آف سیل سسٹم کا نفاذ اور دیگر ٹیکس اقدامات طبی شعبے پر اضافی مالی بوجھ کا باعث بنیں گے جبکہ اس کا اثر بالآخر مریضوں پر پڑ سکتا ہے۔
پی ایم اے کا مؤقف ہے کہ اسپتال اور کلینکس کمرشل ریٹیل آؤٹ لیٹس نہیں بلکہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ فیسلٹیز کے لیے سادہ، واضح اور معقول ٹیکس پالیسی مرتب کی جائے۔
ادھر محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نجی اسپتالوں اور کلینکس پر ٹیکسز کے نفاذ سے متعلق معاملات ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ پنجاب میں طبی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور محکمہ صحت کی جانب سے طبی خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

