کراچی: شہر قائد کے علاقے احسن آباد میں فلیٹ سے ڈاکٹر، ان کی اہلیہ اور 3 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق احسن آباد کے علاقے سے ملنے والی پانچوں لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور ساتویں منزل پر واقع فلیٹ کے ایک کمرے سے ملی ہیں۔ فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق جاں بحق افراد میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو گھر کے کفیل تھے۔ پانچوں لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے خودکشی کے امکان کو بھی مدنظر رکھا ہے تاہم حتمی وجہ تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد واضح ہو گی۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ڈاکٹر عمر کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جس کے مطابق ڈاکٹر عمر جگر کے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور وہ جس اسپتال میں نوکری کرتے تھے وہاں سے ایک ماہ قبل استعفیٰ دے چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق پنجاب سے تھا اور ڈاکٹر عمر کے گھر کے مالی حالات بھی بہتر نہیں تھے۔ تمام لاشوں پر چادر اور کمبل موجود تھے جبکہ لاشوں میں ایک مرد، ایک خاتون اور 3 بچیاں شامل ہیں۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی فلیٹ سے کئی روز پرانی لاشیں ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے 5 افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلات طلب کر لیں اور مکمل تحقیقات کرکے حتمی نتائج پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ اپنی نگرانی میں واقعے کی تفتیش کو مؤثر اور مربوط بنائیں، واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفتیش اور پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔



