ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد نے ٹریفک پولیس کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر دفعہ 279 کے تحت مقدمات درج نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق جرمانہ کیا جائے اور مقدمات درج کرنے سے گریز کیا جائے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جون 2026 میں اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے باقاعدہ مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، پہلے دو ہفتوں کے دوران 500 کے قریب مقدمات درج کئے گئے تھے، جولائی اور اگست میں بھی ٹریفک پولیس نے بڑی تعداد میں ون وے، تیز رفتاری، لین کی خلاف ورزی اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے پر مقدمات درج کئے، پولیس نے مقدمات کیساتھ ساتھ سیکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی تحویل میں لیا تھا۔
ٹریفک قوانین کا مقصد شہریوں کو بلاوجہ مشکلات سے دوچار کرنا نہیں
ڈی آئی جی نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو شہریوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے اور قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک قوانین کا مقصد شہریوں کو بلاوجہ مشکلات سے دوچار کرنا نہیں بلکہ سڑکوں پر نظم و ضبط اور محفوظ سفری ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم کا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر اہم اقدام۔ دفعہ 279 ت پ کے تحت مقدمات درج نہ کرنے کی ہدایت۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق جرمانہ کیا جائے، ٹریفک افسران شہریوں کے خلاف غیر ضروری مقدمات سے گریز کریں، ڈی آئی جی علی وسیم
ٹریفک افسران شہریوں سے خوش اخلاقی، شائستگی اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں، شہری ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں اور خلاف ورزیوں سے اجتناب کریں، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے شہری ٹریفک پولیس سے بھرپور تعاون کریں، ٹریفک قوانین کی پابندی محفوظ اور پُرامن سفری ماحول کی ضامن ہے۔ ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم
#WeRIslamabadPolice— Islamabad Police (@ICT_Police) September 28, 2026
ڈی آئی جی نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ دورانِ سفر ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں، ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑی کے ضروری کاغذات ہمراہ رکھیں، مقررہ رفتار کی پابندی کریں اور ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔
پولیس کے مطابق شہریوں کی جانب سے ٹریفک قوانین کی پابندی نہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے میں مدد دیتی ہے بلکہ سڑکوں پر حادثات اور ٹریفک کے مسائل میں کمی لانے کے لیے بھی اہم ہے۔



