اسلام آباد تا پشاور موٹروے ایم ون دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی ہے، جبکہ جی ٹی روڈ این فائیو اسلام آباد تا پشاور بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
پشاور موٹروے 23 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے اعلان کے پیش نظر بند کی گئی تھی۔ احتجاج کو ‘پر تششد’ ہونے کا الزام لگا کر وفاقی حکومت نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے سڑکوں کی بندش سمیت بیشتر اقدامات کیے تھے۔
موٹروے ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک بند کی گئی تھی جبکہ اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ، ترنول، سنگجانی، براہمہ باہتر، برہان، ہزارہ موٹروے، غازی اور چھچھ انٹرچینج بھی بند کر دیئے جائیں گے۔
اس کے علاوہ موٹروے ایم 14 ہکلہ سے کنڈل تک دونوں اطراف سے بند کی گئی تھی، جبکہ ہکلہ، فتح جنگ، پنڈی گھیپ، کھڑپہ، تراپ، داؤد خیل، کوٹ بیلیاں، عیسیٰ خیل اور کنڈل انٹرچینج بھی بند رکھے گئے تھے۔
اس کے علاوہ جی ٹی روڈ این 5 بھی اٹک خورد کے مقام سے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے جمعہ کو لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا جس کے 3 دن بعد موٹروے آج ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق موٹروے ایم 14 پر ہکلہ تا کنڈل سیکشن کی بحالی کا کام تاحال جاری ہے۔
اطلاع!
ایم-1، اسلام آباد تا پشاور موٹرے ٹریفک کی آمدورفت کے لئے کھلی ہے۔
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) September 27, 2026
اسی طرح موٹروے ایم ون سے ہزارہ موٹروے کو ملانے والے لوپ پر بھی بحالی کا کام جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد سے ایبٹ آباد جانے والی ٹریفک ایم ون کے ذریعے برہان انٹرچینج سے باہر نکل کر جی ٹی روڈ کے راستے حسن ابدال پہنچ سکتی ہے، جہاں سے جھاری کس انٹرچینج کے ذریعے دوبارہ ہزارہ ایکسپریس وے پر داخل ہوا جاسکتا ہے۔
