چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کے لیے چین امریکا اور ایران کی حمایت کرتا ہے۔
چین کی اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ چین ہمیشہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام کا حامی رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے جلد از جلد مذاکرات کی جانب واپس آئیں اور بات چیت کے ذریعے معاملات طے کریں۔
US President Donald Trump said that he and Chinese President Xi Jinping had a ‘great meeting’ after the two leaders met at the White House. Trump made the comments to reporters before the two boarded the Marine One helicopter for a brief tour https://t.co/Bn78zyHd0M pic.twitter.com/jgzaZ0e13P
— Reuters (@Reuters) September 25, 2026
انہوں نے کہا کہ چین متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے کہ وہ مسائل کے پرامن حل کے عزم پر قائم رہیں اور مذاکرات کا عمل جاری رکھیں۔
چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران بالآخر جوہری معاملے سمیت دیگر امور پر ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں گے اور جلد امن قائم ہوگا۔
‘امریکا اور چین کا فوجی تصادم سے بچنا ہو گا’
امریکی صدر سے ملاقات میں شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وسیع تعاون پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ دونوں ممالک کو ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جو انہیں فوجی تصادم کی جانب لے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے اندرونی حالات مختلف ہیں، تاہم مسلسل مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے، اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات تلاش کرسکتے اور باہمی اعتماد بڑھا سکتے ہیں۔
President Donald J. Trump and the First Lady Greet President Xi and Madame Peng for a State Dinner. pic.twitter.com/I0AGChHx4c
— The White House (@WhiteHouse) September 24, 2026
چینی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بڑی طاقتوں کی حیثیت سے چین اور امریکا تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ محاذ آرائی دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
انہوں نے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے اور بحرانوں سے نمٹنے اور ان کی روک تھام کے لیے مواصلاتی نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مصنوعی ذہانت، تجارت اور تائیوان سمیت مختلف معاملات پر چین اور امریکا کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر محصولات بھی عائد کر چکے ہیں۔
ملاقات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ امریکا کا دوسری مرتبہ سرکاری دورہ کرنے والے پہلے چینی رہنما ہیں۔ ان کا گزشتہ دورہ 2015 میں صدر براک اوباما کے دور میں ہوا تھا۔
“This is the autopen… it’s Biden.” 🤣
President Trump shows off the legendary Presidential Walk of Fame to President Xi. pic.twitter.com/qUQEM6XoLj
— The White House (@WhiteHouse) September 24, 2026
ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ’بہت اچھی دوستی‘ قائم ہو گئی ہے اور دونوں ممالک کو درپیش معاملات پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں زیادہ متوازن تجارتی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہیں، جن میں امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی بھی شامل ہے۔
